@sou09.03: #zhuma #竹马 #duyin #kuaishou #sou

sou
sou
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 24 June 2026 10:58:22 GMT
1326
79
2
3

Music

Download

Comments

sguvfgbgdgbnnhcbjjvvbbn
刀斩也不断 :
好看
2026-07-13 04:05:11
0
marcel.2552
🍄Marcel255🍄 :
❤️❤️❤️🥰🥰🥰
2026-06-25 10:07:57
1
To see more videos from user @sou09.03, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تمپ میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ، موٹر سائیکل  پر سوار فتنہ ال ہندستان کے دہشت گردوں نے مقامی شہری کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ اس قسم کے بزدلانہ حملے اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف نہ تو بلوچ عوام کی نمائندہ ہیں اور نہ ہی ان کے مفادات کی محافظ، بلکہ ان کی کارروائیوں کا سب سے بڑا نشانہ خود بلوچ عوام بنتے ہیں۔ یہ عناصر مسلسل قتل و غارت، بھتہ خوری، دھمکیوں اور دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان میں خوف و ہراس کی فضا قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی تاجروں، مزدوروں، نوجوانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا ان کی پرانی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ عوام کو خوفزدہ کر کے اپنی مرضی مسلط کی جا سکے۔ ان کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان انہی خاندانوں اور لوگوں کو پہنچتا ہے جن کے نام پر یہ جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ خصوصی طور پر نوجوانوں کو دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو نوجوان ان کے ساتھ شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں یا ان کے غیر قانونی احکامات ماننے سے گریز کرتے ہیں، وہ اکثر انتقامی کارروائیوں اور تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ان کا مقصد خوف کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا ہے۔
تمپ میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ، موٹر سائیکل پر سوار فتنہ ال ہندستان کے دہشت گردوں نے مقامی شہری کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ اس قسم کے بزدلانہ حملے اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف نہ تو بلوچ عوام کی نمائندہ ہیں اور نہ ہی ان کے مفادات کی محافظ، بلکہ ان کی کارروائیوں کا سب سے بڑا نشانہ خود بلوچ عوام بنتے ہیں۔ یہ عناصر مسلسل قتل و غارت، بھتہ خوری، دھمکیوں اور دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان میں خوف و ہراس کی فضا قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی تاجروں، مزدوروں، نوجوانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا ان کی پرانی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ عوام کو خوفزدہ کر کے اپنی مرضی مسلط کی جا سکے۔ ان کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان انہی خاندانوں اور لوگوں کو پہنچتا ہے جن کے نام پر یہ جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ خصوصی طور پر نوجوانوں کو دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو نوجوان ان کے ساتھ شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں یا ان کے غیر قانونی احکامات ماننے سے گریز کرتے ہیں، وہ اکثر انتقامی کارروائیوں اور تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ان کا مقصد خوف کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا ہے۔

About