@anniereview15: Êi nó đã thiệc, bảo sao nhiều bà khuyên mà h tui mới thử #reviewlamdep #ubot #ubottrangda #obaxua #botcamgao

Annie ✿
Annie ✿
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 24 June 2026 14:59:23 GMT
1887
12
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @anniereview15, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

فرانس سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ سلویا یاسمینا نے برسوں تک اپنے شوہر کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، مالی معاونت کی، خاندان کو سنبھالا اور محبت و وفاداری کی مثال قائم کی۔ لیکن ان کے بقول، یہی محبت ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن گئی۔ سلویا یاسمینا کے مطابق، جب وہ 2014 میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں برسوں تک گھر سے باہر نکلنے، کسی سے ملنے، بات کرنے اور حتیٰ کہ فون استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی بیٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی۔ کئی سال خاموشی اور خوف کے سائے میں گزر گئے، مگر پھر ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر سے نکل کر پولیس تک اطلاع پہنچائی۔ اسی ایک قدم نے ایک ماں اور اس کے بچوں کے لیے آزادی کی امید پیدا کی۔ رپورٹس کے مطابق، خیبر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو باڑہ کے ایک خستہ حال گھر سے بازیاب کرایا اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا۔ سلویا یاسمینا اب اپنے بچوں کے ہمراہ فرانس واپس جا کر ایک نئی، محفوظ اور پُرامن زندگی شروع کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ❓ آپ کے خیال میں، اگر کسی خاتون یا بچوں پر تشدد کے ایسے الزامات سامنے آئیں تو قانون کو کتنی سخت کارروائی کرنی چاہیے؟ اپنی رائے ضرور دیں۔ یہ خبر معتبر خبر رساں ذرائع سے حاصل کی گئی ہے اور عوامی آگاہی کے لیے شیئر کی گئی ہے #sylviayasmina  #domesticviolence  #humanrights  #trending #viral
فرانس سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ سلویا یاسمینا نے برسوں تک اپنے شوہر کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، مالی معاونت کی، خاندان کو سنبھالا اور محبت و وفاداری کی مثال قائم کی۔ لیکن ان کے بقول، یہی محبت ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن گئی۔ سلویا یاسمینا کے مطابق، جب وہ 2014 میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں برسوں تک گھر سے باہر نکلنے، کسی سے ملنے، بات کرنے اور حتیٰ کہ فون استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی بیٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی۔ کئی سال خاموشی اور خوف کے سائے میں گزر گئے، مگر پھر ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر سے نکل کر پولیس تک اطلاع پہنچائی۔ اسی ایک قدم نے ایک ماں اور اس کے بچوں کے لیے آزادی کی امید پیدا کی۔ رپورٹس کے مطابق، خیبر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو باڑہ کے ایک خستہ حال گھر سے بازیاب کرایا اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا۔ سلویا یاسمینا اب اپنے بچوں کے ہمراہ فرانس واپس جا کر ایک نئی، محفوظ اور پُرامن زندگی شروع کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ❓ آپ کے خیال میں، اگر کسی خاتون یا بچوں پر تشدد کے ایسے الزامات سامنے آئیں تو قانون کو کتنی سخت کارروائی کرنی چاہیے؟ اپنی رائے ضرور دیں۔ یہ خبر معتبر خبر رساں ذرائع سے حاصل کی گئی ہے اور عوامی آگاہی کے لیے شیئر کی گئی ہے #sylviayasmina #domesticviolence #humanrights #trending #viral

About