@islamic.worrier1: bukhari 4108 💔🥺

𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎𝒊𝒄 ⚔️
𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎𝒊𝒄 ⚔️
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 24 June 2026 17:47:19 GMT
168242
10681
72
683

Music

Download

Comments

danish_malik102
danish Malik :
Main na hadees Dekhi hai Beshaq ye hadees sahi bukhari m mojood hai (4008)
2026-06-26 11:34:25
20
bilalbut74
Bilal Hussain :
g belkul sahy he me deky he 4108
2026-07-18 15:35:05
0
shaibe_baloch
سردار شیری بلوچ👑 :
right💯🥺
2026-06-28 09:38:16
0
irfanaligh0667
Ali :
bilkul thk
2026-06-26 19:42:41
0
hassnainishfaq09
hassnainishfaq8 :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-06-29 00:20:11
0
top1umar77
عمر :
2026-06-26 00:54:11
3
hassanbaba0096
Hassan baba :
Gooo
2026-06-25 14:25:44
3
tayyabmilangi
Hafiz Muhammad Tayyab rasheed :
یہ حضرت صاحب حدیث کی بالکل غلط وضاحت کر رہے ہیں
2026-06-25 18:33:34
11
ibn_e_adam_005
Rashid Hunjra :
ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا، یا ان پر تنقید کی، تو انہوں نے جواب دیا: "إِنّمُعَاوِيَةَقَدْغَفَرَاللّهُلَهُ، وَلَكِنّكُمْلَا تَغْفِرُونَلَهُ." ترجمہ: "بے شک معاویہ کو تو اللہ نے معاف کر دیا ہوگا، لیکن تم لوگ (اپنے دلوں کے حسد اور بغض کی وجہ سے) انہیں معاف نہیں کرو گے۔" ایک اور تفصیلی روایت میں یہ الفاظ اس طرح ملتے ہیں کہ جب لوگوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعض فیصلوں پر بات کی تو آپ نے فرمایا: "اللہ کریم ہے، اس نے معاویہ کی لغزشوں کو معاف فرما دیا ہوگا، لیکن تم لوگ (جو ان کے پیچھے پڑے ہو) ان کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہو۔
2026-06-25 07:28:29
3
mahar.umar28
عمر :
2026-06-26 15:58:09
0
shahzaibrabani102
Ṩhͥahͣzͫaΐ多♦️ :
bukhari 4108 ye khadees nahe ha mene abi search kia ha
2026-06-26 01:37:55
2
dr..khubaib
Dr. khubaib :
حدیث میں نا ابن عمر کی طرف اشارے کا ذکر ہے نہ لفظ خلافت کا ذکر ہے آپ نے امر سے مراد خلافت کہاں سے لے لیا ؟
2026-06-26 03:58:48
2
zohaibsyyal
Zohaib Syyal :
صحیح بخاری حدیث نمبر 4108 (اردو ترجمہ) Sahih al-Bukhari حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ ان کے سر سے غسل کے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ میں نے کہا: "آپ لوگوں کے حالات دیکھ رہی ہیں، اور مجھے اس معاملے (خلافت) میں کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔" حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "لوگوں کے پاس ضرور جاؤ، کیونکہ وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم نہ گئے تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔" چنانچہ وہ مجھے مسلسل آمادہ کرتی رہیں یہاں تک کہ میں لوگوں کے پاس گیا۔ پھر جب لوگ جمع ہوئے تو Muawiya ibn Abi Sufyan نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "جو شخص اس خلافت کے معاملے میں کچھ کہنا چاہتا ہے، وہ سامنے آئے۔ ہم اس کے اور اس کے والد سے زیادہ اس کے حق دار ہیں۔" اس پر حبیب بن مسلمہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: "آپ نے جواب کیوں نہ دیا؟" عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں جواب دینے کے لیے تیار ہوا تھا اور کہنا چاہتا تھا کہ 'تم سے زیادہ اس خلافت کا حق دار وہ ہے جس نے اسلام کی خاطر تم سے اور تمہارے والد سے جنگ کی تھی۔' لیکن مجھے خوف ہوا کہ میری بات سے مسلمانوں میں اختلاف اور خونریزی نہ ہو جائے، یا میری بات کا غلط مطلب نہ لیا جائے۔ اس لیے میں نے اللہ تعالیٰ کی جنت کی نعمتوں کو یاد کیا (اور خاموشی اختیار کی)۔" اس پر حبیب بن مسلمہ نے کہا: "آپ نے صحیح کیا، اللہ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔" �
2026-06-26 04:03:28
4
bhattiyousuf231
Muhammad :
alli da pehla no 1.
2026-06-26 10:03:42
0
mohsinraza2579
mohsin raza :
آپ نے جو نکتہ پوچھا ہے، یہی اصل “کنفیوژن پوائنٹ” ہے—اور اس میں مرزا انجینئر صاحب کی تعبیر حدیث کے سیاق اور عربی اسلوب دونوں کے خلاف جاتی ہے۔ میں آپ کو سیدھی بات، متن کے مطابق بتاتا ہوں: 📌 1) حدیث میں عبداللہ بن عمرؓ کو “براہِ راست مخاطب” نہیں کیا گیا صحیح بخاری 4108 میں جو الفاظ ہیں: نحن أحق بهذا الأمر منكم ومن أبيكم یہاں: کوئی شخص نام لے کر مخاطب نہیں ہو رہا نہ “عبداللہ بن عمر” کا نام ہے نہ “عمر بن خطابؓ” کا نام ہے بطور خطاب 👉 یہ ایک سیاسی عمومی خطاب (general political statement) ہے، نہ کہ انفرادی طنز یا اشارہ۔ 📌 2) اصل واقعہ کیا ہے؟ روایت میں دو الگ باتیں ہیں: ✔️(1) ابن عمرؓ کا اپنا خیال وہ چاہتے تھے کہ بات کریں مگر فتنہ کے خوف سے خاموش رہے۔ ✔️(2) معاویہؓ کا عمومی خطاب انہوں نے کہا: “ہم اس معاملے کے زیادہ حق دار ہیں…” یہ مجلس/سیاسی اجتماع میں کہا گیا جملہ تھا، کسی ایک شخص کو target نہیں کیا گیا۔ 📌 3) “تم اور تمہارے باپ” کا مطلب کیا ہے؟ یہاں سب سے اہم لسانی نکتہ ہے: عربی اسلوب میں: “منکم ومن أبیکم” = تمہارا گروہ / تمہارا سیاسی موقف یہ بالکل ایسے ہے جیسے آج کوئی کہے: “ہم تم سے اور تمہارے پورے گروہ سے زیادہ حق دار ہیں” 👉 اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کسی ایک فرد (عبداللہ بن عمرؓ) کو خاص طور پر اشارہ کیا جا رہا ہے۔ 📌 4) محدثین کی واضح تشریح فتح الباری میں واضح ہے: یہ جملہ مخاطبِ واحد نہیں بلکہ مخاطبِ جماعت ہے اس میں “ابیکم” سے مراد کوئی ایک صحابی نہیں بلکہ سیاسی فریق/گروہ ہے اسے کسی صحابی کی تنقیص یا نام لے کر اشارہ سمجھنا غلط ہے 📌 5) مرزا انجینئر کی تشریح کہاں غلط ہوتی ہے؟ ان کی بات میں 3 بنیادی غلطیاں ہیں: ❌ (1) Context ignore کرنا یہ واقعہ “سیاسی گفتگو” ہے، personal attack نہیں ❌ (2) Arabic grammar ignore کرنا “نحن” اور “کم” کو literal شخصی اشارہ بنا دینا غلط ہے ❌ (3) صحابی کے نام کا اضافہ حدیث میں کہیں بھی نہیں کہ: یہ خاص طور پر عبداللہ بن عمرؓ کو کہا گیا ہو 📌 6) سیدھا خلاصہ ✔ حدیث میں عبداللہ بن عمرؓ کو direct اشارہ نہیں ✔ “تم اور تمہارے باپ” ایک عمومی سیاسی خطاب ہے ✔ یہ جملہ کسی ایک صحابی کے خلاف personal statement نہیں ✔ محدثین نے اسے سیاسی گفتگو قرار دیا ہے، عقیدتی مسئلہ نہیں 📌 آخری بات (اہم) اگر کوئی شخص حدیث میں: نام شامل کرے جو متن میں نہیں یا عام جملے کو personal insult بنا دے تو وہ interpretation کر رہا ہوتا ہے، روایت نہیں پڑھ رہا ہوتا
2026-06-28 12:38:41
0
rajpoot4324756
😶‍🌫️رانا حمزہ313💥 :
صحیح بخاری حدیث 4108 کا اردو مفہوم: حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت معاویہؓ نے خلافت کے بارے میں لوگوں سے خطاب کیا تو انہوں نے دل میں ارادہ کیا کہ وہ کچھ کہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ: "جو شخص تم سے اور تمہارے والد سے اسلام کے لیے لڑا تھا، وہ اس (خلافت) کا تم سے زیادہ حق دار ہے۔" لیکن پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے یہ بات زبان سے نہیں کہی، کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور خونریزی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے انہوں نے خاموش رہنا بہتر سمجھا اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھی۔ اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے: مسلمانوں میں فتنہ اور خونریزی سے بچنا بہت اہم ہے۔ بعض اوقات حق بات جاننے کے باوجود بڑے فساد سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کرنا زیادہ حکمت والا فیصلہ ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے امت کے اتحاد کو ترجیح دی۔
2026-06-27 00:51:02
0
lalshah185
Lal Shah :
صحیح بخاری، حدیث نمبر 4108 کا اردو مفہوم: حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بہن حضرت حفصہؓ نے انہیں ایک مجلس میں جانے کی ترغیب دی۔ جب لوگ منتشر ہو گئے تو حضرت معاویہؓ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "جو شخص اس خلافت کے معاملے میں ہم سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ سامنے آئے، کیونکہ ہم اس کے اور اس کے باپ سے زیادہ اس کے حق دار ہیں۔" حضرت حبیب بن مسلمہؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا: "آپ نے جواب کیوں نہ دیا؟" حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: "میں جواب دینے کے لیے تیار ہو گیا تھا اور کہنا چاہتا تھا کہ: تم سے اور تمہارے باپ سے اس شخص کو زیادہ حق حاصل ہے جس نے اسلام کی خاطر تم دونوں سے جنگ کی تھی۔" لیکن پھر میں خاموش رہا، کیونکہ مجھے اندیشہ تھا کہ میری بات مسلمانوں میں اختلاف اور خونریزی کا سبب بن جائے گی، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے جنت کے اجر کی امید رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ اس حدیث کا سبق: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حق بات کہنے کی قدرت رکھنے کے باوجود امت کے اتحاد اور خونریزی سے بچنے کو ترجیح دی۔ اس حدیث کو تاریخی اور سیاسی تناظر میں بھی بیان کیا جاتا ہے، اور اس کی تشریح میں اہلِ علم نے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔
2026-06-28 11:27:57
0
mohsinraza2579
mohsin raza :
جی، میں آپ کو اسی روایت کا اصل عربی متن + لسانی (grammar) تجزیہ بالکل صاف انداز میں دکھا دیتا ہوں تاکہ غلط فہمی ختم ہو جائے۔ 📌 1) حدیث کا اصل عربی متن (صحیح بخاری 4108) روایت کا وہ حصہ جس پر بحث ہوتی ہے: قال معاوية: نحن أحق بهذا الأمر منكم ومن أبيكم 📌 2) اس جملے کا لفظی ترجمہ نحن = ہم (یعنی ایک جماعت/موقف رکھنے والے لوگ) أحق = زیادہ حق دار بهذا الأمر = اس معاملے میں (یعنی خلافت/حکومت) منكم ومن أبيكم = تم سے اور تمہارے باپ سے 👉 لفظی ترجمہ: “ہم اس معاملے کے تم سے اور تمہارے باپ سے زیادہ حق دار ہیں” 📌 3) اصل “گرائمر پوائنٹ” (اہم نکتہ) یہاں سب سے اہم بات یہ ہے: 🔹 “نحن” (ہم) کیوں آیا؟ عربی میں نحن (ہم) استعمال ہوتا ہے: کسی فرد کے لیے نہیں بلکہ سیاسی/گروہی موقف کے لیے مثال: “ہم حکومت کے حق دار ہیں” = اس کا مطلب ایک شخص نہیں، بلکہ “ہمارا گروہ/حکومت کا دعویٰ” ہوتا ہے 📌 4) “منكم ومن أبيكم” کا صحیح مفہوم یہاں دو اہم چیزیں ہیں: ✔️1) یہ خطاب عمومی ہے یہ کسی ایک شخص کو طعنہ نہیں بلکہ سیاسی فریقوں کا تقابل ہے ✔️2) “ابیکم” (تمہارے باپ) کا مطلب؟ یہ عربی اسلوب میں: “تمہاری جماعت / تمہارا سیاسی گروہ” یعنی: “تم اور تمہارا موقف رکھنے والا گروہ” 📌 5) محدثین کی وضاحت فتح الباری میں امام ابن حجرؒ لکھتے ہیں: یہ الفاظ سیاسی گفتگو (munazarah/political claim) کے ہیں اس سے کسی صحابی کی توہین یا عقیدے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا “نحن” سے مراد مجموعی سیاسی قیادت/حامی گروہ ہے 📌 6) غلط فہمی کہاں پیدا ہوتی ہے؟ یوٹیوب والے اکثر یہ غلطی کرتے ہیں: ❌ “نحن” کو ایک شخص سمجھ لیتے ہیں ❌ “ابیکم” کو literal یعنی حضرت عمرؓ سمجھ لیتے ہیں ❌ سیاسی جملے کو عقیدتی توہین بنا دیتے ہیں 📌 7) صحیح خلاصہ ✔ یہ جملہ خلافت کے سیاسی دعوے کا حصہ ہے ✔ یہ کسی صحابی کی توہین نہیں ✔ عربی گرامر میں “نحن” اور “ابیکم” عمومی/سیاسی مفہوم رکھتے ہیں ✔ محدثین نے اسے “سیاسی مناظرہ” قرار دیا ہے، نہ کہ عقیدتی مسئلہ
2026-06-28 12:30:56
0
jamfaizanlarr
𝐉𝐚𝐚𝐦 𝐅𝐚𝐢𝐳𝐚𝐧 :
علم کا سمندر محمد علی مرزا 💯
2026-06-27 06:06:12
0
faisisial635
Fasi sial :
😍😍😍
2026-06-25 03:58:59
1
muhammad.sajid6134
isha 👸 👑 ♠️ 👸 👑 ♠️ 👸 👑 :
👍👍👍
2026-06-25 02:30:00
3
latifbaloch0804
💕💕 Abu Hussain 💕💕 :
🥰🥰🥰
2026-06-25 16:49:44
1
haji.khan0150
Haji Khan. :
❤️❤️❤️
2026-07-13 10:10:21
0
hassanbaba0096
Hassan baba :
🥰🥰🥰
2026-06-25 14:26:56
0
To see more videos from user @islamic.worrier1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About