@muslimwrite123: باپ کا سایہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ان کے بغیر زندگی کی ہر خوشی ادھوری اور ہر کامیابی پھیکی لگتی ہے۔ سب کچھ ہے بس باپ نہیں ہے کہنے کو تو زندگی میں ہر آسائش موجود ہے—اچھا گھر ہے، عزت ہے، اور وہ تمام چیزیں ہیں جو ایک کامیاب زندگی کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن اس بھری پوری دنیا میں ایک ایسا خلا ہے جسے دنیا کی کوئی دولت اور کوئی رشتہ نہیں بھر سکتا۔ اور وہ خلا ہے 'باپ' کا نہ ہونا۔ باپ گھر کی وہ مضبوط چھت ہوتا ہے جو اولاد کو ہر تپتی دھوپ اور طوفان سے بچائے رکھتا ہے۔ جب تک وہ تھے، کبھی کسی چیز کی فکر نہیں تھی کیونکہ ان کا ہونا ہی سب سے بڑا حوصلہ تھا۔ آج جیبیں تو بھری ہوئی ہیں، لیکن سر پر وہ شفقتی ہاتھ موجود نہیں ہے جو ہر خوف کو ختم کر دیتا تھا۔ "سب کچھ ہے پاس میرے بس ایک تری کمی ہے، اے باپ تیرے بن یہ دنیا اجڑی ہوئی گلی ہے۔" باپ کا نہ ہونا ایک ایسے مستقل ادھورے پن کا نام ہے جو انسان کو اندر سے خاموش کر دیتا ہے۔ ہر خوشی کے موقع پر دل بس یہی سوچ کر رو پڑتا ہے کہ کاش آج میری اس کامیابی کو دیکھنے کے لیے میرے والد موجود ہوتے۔ ان کے بغیر ہر مسرت ادھوری اور ہر جشن بے نور ہے۔