@d7.xw: كيف تصوير#الخبر #شوارع #fyp #اكسبلور

📍Al- Khobar 📸
📍Al- Khobar 📸
Open In TikTok:
Region: SA
Thursday 25 June 2026 16:35:04 GMT
16243
409
18
111

Music

Download

Comments

oud_6j
Joud :
مايهم التصوير دام اللي تصورها الخبر
2026-06-26 11:02:12
2
caesar.m11
Caesar :
يالب لبي الخبر 🥰🥰🥰🥰
2026-06-26 20:20:08
1
nn3_5051
نواف | NAWAF 🩶 :
فنان 👍🏼
2026-06-26 22:21:39
0
norah_570
نـويـرٌ♥️ :
يجنن✌🏼
2026-06-30 20:18:28
0
queen.haytch
Queen.Nounii :
خيااااال
2026-06-27 23:46:36
0
eslamsoly28
islam 🇪🇬✈️🇸🇦 :
عشقي الخبر عمري كله فيها عشقي الدمام و الخبر
2026-07-03 13:05:13
0
amelia_80769
Ye Jiajia :
Where are the two buildings you passed by? It looks very beautiful.
2026-06-26 19:10:35
0
nonita017
💕 امْرَأَة عمران💜💜 :
الخبر تفووووز ماشاءالله تبارك الله 💜أنا من مكه جيت زياره الخبر وعشقتها
2026-08-13 16:41:36
0
emana_mashan
Eman_mashan🇸🇦 :
2026-08-08 05:20:56
0
marwan1trad
سالم الورد :
ليش ضلام 🥺🥺🥺 أناره مافي؟
2026-06-25 16:49:07
0
jak23mas
user2600231354430 :
الاغنيه قديمه و ينم على افلاس
2026-06-27 08:47:32
0
almohra980
المُـهـرهـ | الخبـر 📸 :
دامها خبرنا اكيد حلو 📸
2026-07-28 23:18:29
0
abdullah____1998
Abdullah :
Alkhobar baby ❤️‍🔥
2026-07-06 08:28:30
0
cof_shri7
شهـــريّــة :
2026-07-26 00:18:56
0
boali_89
Hassan :
❤️❤️❤️❤️
2026-06-30 18:41:53
0
To see more videos from user @d7.xw, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#onthisday #اولاد کی غلطیوں پر برداشت — ایک قابلِ تقلید عادت مختلف معاشروں میں بچوں کی تربیت کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ بعض مغربی معاشروں میں ایک بات خاص طور پر قابلِ غور نظر آتی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی ہر چھوٹی غلطی کو زندگی اور عزت کا مسئلہ نہیں بناتے۔ بچہ کوئی غلط بات کہہ دے، کوئی معمولی کوتاہی کر بیٹھے یا کسی موقع پر نادانی کا مظاہرہ کرے تو والدین اکثر غصے، طعنوں اور شرمندگی کے بجائے مسکرا کر معاملہ سنبھال لیتے ہیں۔ اس رویے میں ایک ایسی قوتِ برداشت دکھائی دیتی ہے جس سے دوسرے معاشرے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اولاد آخر انسان ہے۔ اس سے غلطیاں ہوں گی، وہ کبھی ضد کرے گی، کبھی والدین کی بات نہیں مانے گی، کبھی ایسا فیصلہ کرے گی جو والدین کو پسند نہیں ہوگا۔ اگر ہر غلطی پر ڈانٹ، تضحیک، طعنہ اور غصہ ہی جواب ہو تو بچے کے دل میں اصلاح کے بجائے خوف پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسے چھپانا سیکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر والدین بعض معمولی غلطیوں کو مسکرا کر ٹال دیں اور مناسب وقت پر محبت سے سمجھا دیں تو بچے کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسے یہ احساس رہتا ہے کہ ’’میں غلطی کر سکتا ہوں، لیکن میری غلطی مجھے اپنے والدین سے دور نہیں کرے گی۔‘‘ یہی احساس بچے کو مستقبل میں اپنی مشکلات اور غلطیوں کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اولاد کی ہر غلطی کو نظرانداز کر دیا جائے۔ تربیت میں حدود، اصول اور ذمہ داری بھی ضروری ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ غلطی کی اصلاح کی جائے، بچے کی تذلیل نہ کی جائے۔ معمولی کوتاہی پر غصہ کرنے کے بجائے کبھی مسکرا دینا، بات کو ہلکا کر دینا اور پھر مناسب انداز میں سمجھا دینا والدین اور بچوں کے تعلق کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ہمیں شاید اس رویے سے یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بات کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ بچے کا ہر جواب بدتمیزی نہیں، ہر اختلاف نافرمانی نہیں اور ہر غلطی تربیت کی ناکامی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی بچے کو یہ آزادی دینا بھی ضروری ہے کہ وہ غلطی کرے، اس کے نتائج سمجھے اور خود سیکھے۔ اچھی تربیت صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو غلطی سے روکیں؛ اچھی تربیت یہ بھی ہے کہ جب وہ غلطی کر بیٹھیں تو ہم انہیں دوبارہ صحیح راستے پر آنے کا حوصلہ دیں۔ اولاد کو ہماری ڈانٹ سے زیادہ ہماری سمجھ، اور ہماری ناراضی سے زیادہ ہمارے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی اولاد کی معمولی غلطیوں پر کچھ زیادہ مسکرا سکیں، کچھ کم غصہ کریں اور محبت سے سمجھانے کی عادت ڈالیں تو شاید ہمارے گھروں میں نہ صرف سکون بڑھے بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہو۔#trendingsong
#onthisday #اولاد کی غلطیوں پر برداشت — ایک قابلِ تقلید عادت مختلف معاشروں میں بچوں کی تربیت کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ بعض مغربی معاشروں میں ایک بات خاص طور پر قابلِ غور نظر آتی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی ہر چھوٹی غلطی کو زندگی اور عزت کا مسئلہ نہیں بناتے۔ بچہ کوئی غلط بات کہہ دے، کوئی معمولی کوتاہی کر بیٹھے یا کسی موقع پر نادانی کا مظاہرہ کرے تو والدین اکثر غصے، طعنوں اور شرمندگی کے بجائے مسکرا کر معاملہ سنبھال لیتے ہیں۔ اس رویے میں ایک ایسی قوتِ برداشت دکھائی دیتی ہے جس سے دوسرے معاشرے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اولاد آخر انسان ہے۔ اس سے غلطیاں ہوں گی، وہ کبھی ضد کرے گی، کبھی والدین کی بات نہیں مانے گی، کبھی ایسا فیصلہ کرے گی جو والدین کو پسند نہیں ہوگا۔ اگر ہر غلطی پر ڈانٹ، تضحیک، طعنہ اور غصہ ہی جواب ہو تو بچے کے دل میں اصلاح کے بجائے خوف پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسے چھپانا سیکھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر والدین بعض معمولی غلطیوں کو مسکرا کر ٹال دیں اور مناسب وقت پر محبت سے سمجھا دیں تو بچے کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسے یہ احساس رہتا ہے کہ ’’میں غلطی کر سکتا ہوں، لیکن میری غلطی مجھے اپنے والدین سے دور نہیں کرے گی۔‘‘ یہی احساس بچے کو مستقبل میں اپنی مشکلات اور غلطیوں کے بارے میں والدین سے کھل کر بات کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اولاد کی ہر غلطی کو نظرانداز کر دیا جائے۔ تربیت میں حدود، اصول اور ذمہ داری بھی ضروری ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ غلطی کی اصلاح کی جائے، بچے کی تذلیل نہ کی جائے۔ معمولی کوتاہی پر غصہ کرنے کے بجائے کبھی مسکرا دینا، بات کو ہلکا کر دینا اور پھر مناسب انداز میں سمجھا دینا والدین اور بچوں کے تعلق کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ ہمیں شاید اس رویے سے یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بات کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ بچے کا ہر جواب بدتمیزی نہیں، ہر اختلاف نافرمانی نہیں اور ہر غلطی تربیت کی ناکامی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی بچے کو یہ آزادی دینا بھی ضروری ہے کہ وہ غلطی کرے، اس کے نتائج سمجھے اور خود سیکھے۔ اچھی تربیت صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو غلطی سے روکیں؛ اچھی تربیت یہ بھی ہے کہ جب وہ غلطی کر بیٹھیں تو ہم انہیں دوبارہ صحیح راستے پر آنے کا حوصلہ دیں۔ اولاد کو ہماری ڈانٹ سے زیادہ ہماری سمجھ، اور ہماری ناراضی سے زیادہ ہمارے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی اولاد کی معمولی غلطیوں پر کچھ زیادہ مسکرا سکیں، کچھ کم غصہ کریں اور محبت سے سمجھانے کی عادت ڈالیں تو شاید ہمارے گھروں میں نہ صرف سکون بڑھے بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہو۔#trendingsong

About