@sulaimanshaajiz: کل قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر کے دوران ایک تاریخی حقیقت یاد دلائی کہ ماضی میں میاں نواز شریف بھی کنٹینر پر کھڑے ہو کر آرمی چیف کا نام لے کر تنقید کرتے تھے اور اُس وقت انہیں "محکمۂ زراعت" کا نمائندہ نہیں کہا جاتا تھا؟؟۔ یہ جملہ شاید وزیراعظم شہباز شریف کو ناگوار گزرا، چنانچہ انہوں نے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ "مولانا کے ساتھ تنہائی میں ہونے والی بہت سی باتیں ہیں جو میں قبر میں لے جاؤں گا۔" بظاہر یہ ایک سیاسی جملہ تھا، مگر اس کے اندر کئی پرتیں پوشیدہ تھیں۔ ایک طرف مولانا کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی کوشش، دوسری جانب یہ تاثر دینا کہ کچھ راز ایسے بھی ہیں جن کا ذکر مناسب نہیں۔ یہ واقعی ایک سوچا سمجھا وار تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ قابلِ داد مولانا فضل الرحمٰن کی حاضر دماغی تھی۔ انہوں نے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر نہ صرف بات کا مفہوم سمجھ لیا بلکہ انتہائی پُراعتماد انداز میں جواب دیا: "میں وزیراعظم صاحب کی محبت کو سراہتے ہوئے کہتا ہوں کہ اگر میرے اور ان کے درمیان کوئی ایسی بات ہوئی ہے تو اسے اسی ایوان کے سامنے لے آئیں۔" یہ جواب صرف ایک جواب نہیں تھا بلکہ سیاسی بصیرت اور اعتماد کی بہترین مثال تھا۔ اگر مولانا چند لمحوں کے لیے بھی خاموش رہتے تو طرح طرح کی قیاس آرائیاں جنم لیتیں، مخالفین اپنی کہانیاں بناتے اور کارکن وضاحتیں دیتے پھرتے۔ مگر بروقت جواب نے ہر دروازہ بند کر دیا۔ سیاست میں صرف بولنا کافی نہیں ہوتا، وقت پر بولنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کل کے اجلاس میں یہی فرق واضح نظر آیا۔ ایک طرف سیاسی چال تھی اور دوسری طرف سیاسی شعور۔ ایک طرف اشارہ تھا اور دوسری طرف کھلا چیلنج۔ یہی سیاسی بیداری ہے، یہی پارلیمانی تجربہ ہے اور یہی وہ صلاحیت ہے جو بڑے سیاستدانوں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ #viralvideomytiktokpleasehelpmee #جمعیت_ایک_نظریہ_ہے_اپنالیجئے #fypシシ゚viral☆♡💯youhシ゚viral