@stahamdard75: محبت کے نام پر کیا سے کیا ہو گئی پر پھر بھی قدر نہیں ملی 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلویا یاسمینا فرانس میں اپنے شوہر کا سہارا بنی رہیں مالی مدد کرتی رہیں خاندان کو سنبھالتی رہیں مگر پھر 2014 میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو ان کی زندگی جیسے ایک قید خانے میں بدل گئی ان کے مطابق انہیں برسوں تک گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی کسی سے ملنے بات کرنے یا فون استعمال کرنے تک کی آزادی چھین لی گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی روزانہ جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ان کی بیٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی کئی برس خاموشی میں گزر گئے پھر ایک دن ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کی گھر سے نکل کر پولیس تک خبر پہنچائی اور یوں ایک ماں اور اس کے بچوں کے لیے آزادی کی کرن نمودار ہوئی خیبر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو باڑہ میں ایک خستہ حال کچے گھر سے بازیاب کیا اور شوہر کو گرفتار کر لیا سلویا یاسمینا اب اپنے بچوں کے ساتھ فرانس واپس جانا چاہتی ہیں جہاں شاید وہ ایک نئی اور پُرامن زندگی کا آغاز کر سکیں