@chigiadung.86: Combo 10 khane nén tha hồ mang đi #khanmat #khantam #khannen #chigiadung #xuhuong

Chi Gia Dụng
Chi Gia Dụng
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 26 June 2026 12:02:10 GMT
47
3
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @chigiadung.86, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

امام حسین بن علی اور حبیب بن مظاہر اسدی کے درمیان خط کا واقعہ محبت، وفاداری اور قربانی کی ایک مشہور روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ 🏜️ واقعہ کیا تھا؟ جب امام حسینؑ کربلا میں محاصرہ میں تھے اور حالات انتہائی سخت ہو چکے تھے، تو آپؑ نے اپنے پرانے دوست اور وفادار ساتھی حبیب بن مظاہرؓ کو ایک خط بھیجا۔ اس خط میں انہیں اپنی مدد کے لیے بلایا۔ روایات کے مطابق خط کا مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: “بسم اللہ الرحمن الرحیم اے حبیب! تم جانتے ہو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔ دشمن نے ہمیں کربلا میں گھیر لیا ہے۔ اگر تم ہماری مدد کر سکتے ہو تو ہمارے پاس آ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے گا۔” جب حبیب بن مظاہرؓ کو یہ پیغام ملا تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے خط کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور کہا: “حسینؑ نے مجھے یاد کیا ہے، میں کیسے نہ جاؤں؟” پھر وہ رات کے وقت کوفہ سے نکلے اور چھپتے ہوئے کربلا پہنچ گئے، جہاں امام حسینؑ نے ان کا استقبال فرمایا۔ حبیبؓ نے وفاداری کے ساتھ آخری وقت تک ساتھ دیا اور 10 محرم 61 ہجری کو کربلا میں شہید ہو گئے
امام حسین بن علی اور حبیب بن مظاہر اسدی کے درمیان خط کا واقعہ محبت، وفاداری اور قربانی کی ایک مشہور روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ 🏜️ واقعہ کیا تھا؟ جب امام حسینؑ کربلا میں محاصرہ میں تھے اور حالات انتہائی سخت ہو چکے تھے، تو آپؑ نے اپنے پرانے دوست اور وفادار ساتھی حبیب بن مظاہرؓ کو ایک خط بھیجا۔ اس خط میں انہیں اپنی مدد کے لیے بلایا۔ روایات کے مطابق خط کا مفہوم کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: “بسم اللہ الرحمن الرحیم اے حبیب! تم جانتے ہو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔ دشمن نے ہمیں کربلا میں گھیر لیا ہے۔ اگر تم ہماری مدد کر سکتے ہو تو ہمارے پاس آ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے گا۔” جب حبیب بن مظاہرؓ کو یہ پیغام ملا تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے خط کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور کہا: “حسینؑ نے مجھے یاد کیا ہے، میں کیسے نہ جاؤں؟” پھر وہ رات کے وقت کوفہ سے نکلے اور چھپتے ہوئے کربلا پہنچ گئے، جہاں امام حسینؑ نے ان کا استقبال فرمایا۔ حبیبؓ نے وفاداری کے ساتھ آخری وقت تک ساتھ دیا اور 10 محرم 61 ہجری کو کربلا میں شہید ہو گئے

About