@moulanaofficial: ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمارے سامنے ایک آئین بھی ہے، ہمارے سامنے ایک قانون بھی ہے، جو ہمارے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے، ہمارے اختیارات کے دائرے کو متعین کرتا ہے، اگر وہ اپنے دائرے میں رہے ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ لیکن اگر وہ سیاست میں فریق بن کر سامنے آتے ہیں، انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرتے ہیں اور بلوچستان میں اور گلگت میں حال ہی میں جو کارنامے دکھائے گئے ہیں اور جس طرح نتائج تبدیل کیے گئے ہیں میرے خیال میں اگر وہ سیاست میں آئیں گے تو پھر سیاست میں ہم ہیں اور سیاست میں ان کو جواب بھی دیا جائے گا۔ اگر وہ اپنے فرائض تک محدود رہتے ہیں ہم نے جب انڈیا کے ساتھ لڑائی ہوئی سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور ہم نے کہا ہم ایک قوم ہیں، اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور میں اچھے کاموں کا اچھی بات کہوں گا۔ لیکن اگر آپ غلط راہ پہ چلیں گے تو ہم گونگے نہیں ہیں کہ ہم گونگے شیطان کی طرح خاموش رہیں، پھر ہم پارلیمنٹ میں بھی بات کریں گے اور پارلیمنٹ آباو ہے، پارلیمنٹ سپیرئیر ہے، پارلیمنٹ میں ہر ایک بات کی جا سکتی ہے، دفاع کی قوت ہو وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، یہاں پر کوئی بھی ادارہ ہو اسٹیبلیشمنٹ ہو، بیوروکریسی ہو، وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، اگر پارلیمنٹ آج بجٹ پاس کر رہی ہے اور بجٹ میں ہم اپنے اداروں کو جو یہاں سے پیسہ جائے گا، یہاں سے بجٹ جائے گا اور اس بجٹ سے اس کو غلط طور پر استعمال کریں گے تو اس پر تنقید پارلیمنٹ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ لہذا پارلیمنٹ کو آزاد رہنے دیجیے، پارلیمنٹ کو سپیرئیر رہنے دیجیے، اس کو سپریم رہنے دیجیے اور کسی کو بالاتر ہونے کا تصور نہیں ہے، ہم کوئی ایسی تنقید نہیں کر رہے ہیں خدا نخواستہ کہ ہم ان کا کوئی مزاق اڑا رہے ہیں، کوئی برے الفاظ سے ان کو یاد کر رہے ہیں، ہم ان کے کردار، ان کے ایٹیچیوڈ، ان کے موقف، ان کے رویوں پر اپنی شکایت ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، تو وہ ہم ریکارڈ پر لا رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف صاحب وزیراعظم ہے، تشریف فرما ہے، کیا جب ہم اکٹھے ایک سٹیج پر ہوتے تھے تو انہوں نے اس زمانے میں فوج کے سربراہ کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اس وقت جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا اس وقت انہوں نے فوج کی ادارہ کو محکمہ زراعت نہیں کہا تھا؟ تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ ذرا اپنی ماضی کو بھی پہلے دیکھ لیا کریں اس کے بعد آپ ہماری تنقید کو اتنا سخت ردعمل دیں۔ قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب