@catchuphomie: The Elephant In The Room out now! 🐘❤️ #catch #newmusic #mixtape #ukrap #teitr @Young Adz

CATCH
CATCH
Open In TikTok:
Region: GB
Friday 26 June 2026 15:19:58 GMT
104489
5319
61
294

Music

Download

Comments

iambaby_2024
Baby ❤️ :
agggghhh yeses catchy big big tune so very proud of you ❤️
2026-08-06 12:58:44
0
sefishere
Sef Naqui :
Catch next up 🧨
2026-08-06 03:42:07
1
thingsthatannoyme0
Things That annoy me :
catch goes hard
2026-08-05 20:51:02
7
jahcinc0
Cinco :
Thank God I ain’t never had to do that 🙏🏾
2026-06-28 17:36:43
12
prodrlst
RLST :
Don’t relate gng
2026-06-28 20:46:00
32
jm20thousand
Jm critical :
The 🐐
2026-06-26 17:45:46
0
cfw.tr
Apollo :
Give catch her respect 🔥
2026-06-28 12:06:06
5
lauramaguire2022
laura2025 🌈 :
Fire catchy 🔥🔥
2026-06-27 10:52:04
3
gbh_808melo
Lg :
Lovelinch❤️
2026-06-28 05:14:40
1
misshunietia
HUNIE TIA :
the duo we never knew we f needed! 🔥
2026-06-27 23:11:27
5
muniiofficial
Munii :
Real
2026-06-30 23:17:57
2
zunopunoluno
🆗 :
ah man 😭😭😭😭😭🤣🤣
2026-06-28 00:07:23
1
dntsayawrd_
dntsayawrd_ :
Catch tooo cold
2026-06-27 16:04:18
8
millz836
millz836 :
Always been the coldest🔥🔥🔥
2026-06-27 03:06:44
1
breakingbud710
... :
Album is
2026-07-09 22:11:08
0
mistahbells
mistahbells :
Stepped!!!
2026-07-05 10:43:53
0
thatt_her
S :
Ouuuuu 🔥🔥
2026-07-21 03:18:34
0
alfarooqotf
AL-FAROOQ OTF :
Catch you from a different planet
2026-08-05 22:57:24
0
serenaavivenee
serenaavivenee :
Wait what
2026-06-28 21:55:59
0
To see more videos from user @catchuphomie, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے:
آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے: "بس بہت ہوگیا… پہلے آ کر روٹی کھا لو!" مگر اب نہ وہ بچپن واپس آئے گا، نہ وہ دن… بس رہ جائیں گی تو چند دھندلی یادیں… جو ہر اگست میں دل کی آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔ اے اللہ! ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھ، اور ہمارے بچوں کو بھی وہی محبتِ وطن نصیب فرما جو کبھی ہمارے بچپن کی پہچان تھی۔ 🇵🇰 #fyppppppppppppppppppppppp #deepthoughts #viral #dontunderreviewmyvideo #fypシ゚viral

About