@fragile_feline: Draft ⋆⭒˚.⋆ #therianthropy #therian #quadrobics #alterhuman #quadrobicsjump

🐌⦻🍀мιℓєу🍀⦻🐟
🐌⦻🍀мιℓєу🍀⦻🐟
Open In TikTok:
Region: US
Friday 26 June 2026 20:48:12 GMT
31884
595
15
22

Music

Download

Comments

jimena_sando2
J I M E N A 🪼 :
Ummm
2026-07-12 20:34:27
0
watermelon_bugs
Bugs :
Your form is so good!!!
2026-06-26 20:54:34
1
theofficial_retroverse
theofficial_retroverse :
Love this aesthetic
2026-06-27 15:49:33
1
livybotivy
livybotivy :
Theeeees cooolllestttt!!
2026-06-27 01:52:14
1
russian.xoshnaw1
𖣂🛹🎤 :
Do you know this mask is better than this
2026-06-26 22:33:38
1
vicetheathiest
vice :) ⚛️ :
woah the nature is so pretty
2026-06-27 07:31:45
1
shubomehedi781
👑_MEHEDI_HASAN.._👑👑 :
❤️❤️❤️
2026-07-19 18:16:26
0
teddybaer445
teddybaer445 :
👍👍👍🥰🥰
2026-07-11 11:31:40
0
roman....54
Roman :
😻😻😻
2026-09-04 14:58:16
0
To see more videos from user @fragile_feline, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کبھی کبھی کسی کی نظر میں آنے کے لیے انسان کو اپنی ذات کے کتنے حصے خاموش کرنے پڑتے ہیں، یہ وہی جانتا ہے جس نے کسی کو دل سے چاہا ہو۔ ہم بظاہر ہنستے رہتے ہیں، عام زندگی گزارتے ہیں، سب سے بات کرتے ہیں، مگر اندر ہی اندر کسی ایک شخص کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی محسوس کرے۔ ہماری موجودگی کو بھی اہم سمجھے۔ ہماری خاموشی بھی اسے کچھ کہتی ہوئی محسوس ہو۔ ہم کچھ ایسا نہیں چاہتے جو بہت مشکل ہو، بس اتنا چاہتے ہیں کہ کبھی وہ بھی ہماری طرف دیکھے اور دل سے کہے کہ ہاں، یہ شخص میرے لیے اہم ہے۔ اسی ایک خواہش میں انسان خود کو بدلنا شروع کر دیتا ہے۔ اپنے لہجے پر غور کرتا ہے کہ کہیں اسے میری بات بری تو نہیں لگی؟ اپنے الفاظ سوچ سمجھ کر بولتا ہے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے۔ اپنی ناراضی چھپا لیتا ہے کہ کہیں رشتہ خراب نہ ہو جائے۔ اپنی تکلیف بتانے سے رک جاتا ہے کہ کہیں سامنے والا دور نہ ہو جائے۔ پھر آہستہ آہستہ ہمیں اپنی خوشی سے زیادہ دوسرے کی خوشی عزیز لگنے لگتی ہے۔ وہ خوش ہو تو ہمیں سکون ملتا ہے۔ وہ ناراض ہو تو ہمارا دن خراب ہو جاتا ہے۔ وہ بات کرے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وہ نظر انداز کرے تو دل جانے کیوں اتنا بھاری ہو جاتا ہے۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ ہمیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ ہم شاید حد سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، پھر بھی دل مانتا نہیں۔ ہم بار بار خود کو سمجھاتے ہیں کہ
کبھی کبھی کسی کی نظر میں آنے کے لیے انسان کو اپنی ذات کے کتنے حصے خاموش کرنے پڑتے ہیں، یہ وہی جانتا ہے جس نے کسی کو دل سے چاہا ہو۔ ہم بظاہر ہنستے رہتے ہیں، عام زندگی گزارتے ہیں، سب سے بات کرتے ہیں، مگر اندر ہی اندر کسی ایک شخص کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی محسوس کرے۔ ہماری موجودگی کو بھی اہم سمجھے۔ ہماری خاموشی بھی اسے کچھ کہتی ہوئی محسوس ہو۔ ہم کچھ ایسا نہیں چاہتے جو بہت مشکل ہو، بس اتنا چاہتے ہیں کہ کبھی وہ بھی ہماری طرف دیکھے اور دل سے کہے کہ ہاں، یہ شخص میرے لیے اہم ہے۔ اسی ایک خواہش میں انسان خود کو بدلنا شروع کر دیتا ہے۔ اپنے لہجے پر غور کرتا ہے کہ کہیں اسے میری بات بری تو نہیں لگی؟ اپنے الفاظ سوچ سمجھ کر بولتا ہے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے۔ اپنی ناراضی چھپا لیتا ہے کہ کہیں رشتہ خراب نہ ہو جائے۔ اپنی تکلیف بتانے سے رک جاتا ہے کہ کہیں سامنے والا دور نہ ہو جائے۔ پھر آہستہ آہستہ ہمیں اپنی خوشی سے زیادہ دوسرے کی خوشی عزیز لگنے لگتی ہے۔ وہ خوش ہو تو ہمیں سکون ملتا ہے۔ وہ ناراض ہو تو ہمارا دن خراب ہو جاتا ہے۔ وہ بات کرے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وہ نظر انداز کرے تو دل جانے کیوں اتنا بھاری ہو جاتا ہے۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ ہمیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ ہم شاید حد سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، پھر بھی دل مانتا نہیں۔ ہم بار بار خود کو سمجھاتے ہیں کہ "اسے بھی تو مصروفیت ہو سکتی ہے۔" "شاید ابھی وقت نہیں ہوگا۔" "شاید وہ خود کسی پریشانی میں ہو۔" "شاید اسے اندازہ نہیں کہ مجھے اس کی بات کا انتظار ہے۔" انسان دوسروں کے لیے کتنے خوبصورت بہانے بنا لیتا ہے، صرف اس لیے کہ حقیقت کو ماننے میں دل کو تکلیف نہ ہو۔ ہم کسی کے ایک جواب کے لیے گھنٹوں انتظار کر لیتے ہیں، مگر وہ شاید چند لمحے نکالنا بھی ضروری نہیں سمجھتا۔ ہم اس کے پیغام کو بار بار پڑھتے ہیں، اس کے ایک لفظ میں چھپی ہوئی محبت تلاش کرتے ہیں، اس کے لہجے سے اس کے دل کا حال سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہ شاید ہماری پوری بات بھی دھیان سے نہ پڑھتا ہو۔ پھر بھی ہم اسے برا نہیں کہتے۔ کیونکہ جب دل کسی کو اپنا مان لے تو شکایت بھی بہت سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری شکایت اسے ہم سے دور نہ کر دے۔ اسی ڈر میں بہت سی باتیں دل میں رہ جاتی ہیں۔ کبھی کہنا ہوتا ہے، "تم پہلے جیسے نہیں رہے۔" مگر زبان کہتی ہے، "کچھ نہیں، میں ٹھیک ہوں۔" کبھی کہنا ہوتا ہے، "مجھے تمہاری توجہ چاہیے۔" مگر ہم ہنس کر کہتے ہیں، "کوئی بات نہیں، تم مصروف ہو۔" کبھی دل چاہتا ہے کہ پوچھیں، "کیا تمہیں میری کمی کبھی محسوس ہوتی ہے؟" مگر پھر خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ ڈر لگتا ہے کہ کہیں جواب ہماری امید سے بھی زیادہ تکلیف دہ نہ ہو۔ یہی تو ہوتا ہے نا جب کسی کی نظر میں آنے کی خواہش بہت بڑھ جائے۔ ہم اس کی پسند بننے کے لیے اپنی بہت سی ناپسند چیزیں بھی قبول کر لیتے ہیں۔ وہ جس طرح بات کرنا پسند کرے، ہم ویسے ہی بات کرنے لگتے ہیں۔ وہ جس وقت بات کرنا چاہے، ہم اپنا وقت اسی کے مطابق کر لیتے ہیں۔ وہ ناراض ہو تو ہم مناتے ہیں، ہم ناراض ہوں تو خود ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔ وہ دور ہو تو ہم وجہ ڈھونڈتے ہیں، ہم دور ہوں تو شاید اسے فرق بھی نہیں پڑتا۔ اور پھر ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کسی کی زندگی میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے کرتے اپنی ہی زندگی میں خود سے دور ہو گئے ہیں۔ ہم اپنی خوشیوں کو اس کے رویے سے جوڑ بیٹھے ہیں۔ وہ خوش ہے تو ہم خوش۔ وہ اداس ہے تو ہم اداس۔ وہ بات کر رہا ہے تو دن اچھا۔ وہ خاموش ہے تو دل بےچین۔ کسی ایک شخص کا رویہ ہماری پوری کیفیت طے کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو رک کر خود سے پوچھنا چاہیے کہ میں کسی کی محبت حاصل کر رہا ہوں یا صرف اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود کو مسلسل ثابت کر رہا ہوں؟ کیونکہ محبت میں خود کو ثابت کرتے رہنا ضروری نہیں ہونا چاہیے۔ جو شخص آپ کو سمجھنا چاہتا ہے، وہ آپ کی خاموشی میں بھی آپ کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ جو شخص آپ کو اہم سمجھتا ہے، وہ آپ کو بار بار اپنی اہمیت یاد نہیں دلائے گا۔ جو شخص واقعی آپ کی قدر کرتا ہے، وہ آپ کو یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرے گا کہ "آخر میں اس کے لیے ہوں کیا؟" رشتوں میں سب سے زیادہ تھکا دینے والی چیز دوری نہیں ہوتی، بلکہ وہ احساس ہوتا ہے کہ ہم قریب رہ کر بھی سامنے والے کے لیے اہم نہیں رہے۔ کسی کا دور ہونا برداشت ہو جاتا ہے، مگر کسی کا پاس رہ کر بھی ہمیں نظر انداز کرنا دل کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ پھر انسان خود کو قصوروار سمجھنے لگتا ہے۔ سوچتا ہے شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔ شاید میں اتنا اچھا نہیں۔ شاید میں زیادہ سوچتا ہوں۔ شاید میری محبت کم ہے۔ شاید مجھے اور کوشش کرنی چاہیے۔ #unfrezzmyaccount #foryoupage #foryou #viral #fyp

About