@hiba_edit5: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کی تم نے اچھی تعریف کی، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس کی تم نے بری تعریف کی، اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی۔ تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔" حوالہ: Sahih al-Bukhari، حدیث: 1367 Sahih Muslim، حدیث: 949 مختصر تشریح: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب نیک، دیانت دار اور حق گو مسلمان کسی میت کے بارے میں اس کے ظاہر حال کے مطابق اچھی یا بری گواہی دیں تو وہ گواہی اللہ تعالیٰ کے ہاں اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اپنی رائے سے کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا قطعی فیصلہ کر سکتے ہیں، بلکہ اصل فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ تاہم نیک لوگوں کی سچی گواہی میت کے حسنِ خاتمہ یا برے انجام کی ایک علامت ہوتی ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔"