@richardbarr3: congratulations 🎊 👏 England has qualified for the 2026 World Cup knockout stage before playing their final group match. 🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿

pandadad
pandadad
Open In TikTok:
Region: GB
Saturday 27 June 2026 09:20:26 GMT
341
11
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @richardbarr3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ابراہیم جماعت  — گوادر کے شاہی بازار اور کرکٹ کی سنہری یادوں کے گواہ ابراہیم جماعت ، گوادر کے 83 سالہ بزرگ رہائشی اور شاہی بازار، گوادر کے جنوبی حصے میں واقع پان کی دکان کے مالک، شاید متحرک کاروباری شخصیات میں سے ایک ہیں جو پرانے شاہی بازار اور گوادر کرکٹ کے خوبصورت اور ناقابلِ فراموش دور کے گواہ ہیں۔ عمر کے اس حصے میں بھی وہ عزت، دیانت اور لگن کے ساتھ محنت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی سادہ زندگی اور پُرجوش طبیعت نوجوان نسل کے لیے ایک شاندار مثال ہے۔
ابراہیم جماعت — گوادر کے شاہی بازار اور کرکٹ کی سنہری یادوں کے گواہ ابراہیم جماعت ، گوادر کے 83 سالہ بزرگ رہائشی اور شاہی بازار، گوادر کے جنوبی حصے میں واقع پان کی دکان کے مالک، شاید متحرک کاروباری شخصیات میں سے ایک ہیں جو پرانے شاہی بازار اور گوادر کرکٹ کے خوبصورت اور ناقابلِ فراموش دور کے گواہ ہیں۔ عمر کے اس حصے میں بھی وہ عزت، دیانت اور لگن کے ساتھ محنت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی سادہ زندگی اور پُرجوش طبیعت نوجوان نسل کے لیے ایک شاندار مثال ہے۔ " ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے ابراہیم جماعت پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک سچے اور پرجوش مداح ہیں۔ ان کے پسندیدہ کھلاڑی لیجنڈری ظہیر عباس ہیں، جنہیں “رن مشین” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ابراہیم آج بھی فیصل آباد کے تاریخی ٹیسٹ میچ کو بڑے شوق سے یاد کرتے ہیں اور اس یادگار مقابلے میں پاکستانی کپتان کے اُس فیصلے سے اپنے اختلاف کا کھل کر اظہار کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میچ ہار گیا تھا۔ ان کی کرکٹ سے محبت وقتی شوق نہیں بلکہ زندگی بھر کی وابستگی رہی ہے، جو گوادر کرکٹ کی تاریخ سے گہرا تعلق رکھتی ہے وہ شوق سے کمنٹری سنتے تھے۔ کئی دہائیوں سے مقامی کھلاڑی اور کرکٹ سے محبت رکھنے والے افراد پرانے میچز کے پوزیشن وغیرہ کی تفصیلات جاننے کے لیے ان سے رجوع کرتے رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ گوادر کی کھیلوں کی ثقافت کے ایک قیمتی ذریعہ اور زندہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی سب سے قیمتی یادگاروں میں ایک پرانا ریڈیو تھا، جسے وہ تقریباً پچاس سال سے استعمال کر رہے تھے۔ افسوس کہ ایک ہفتہ قبل چور ان کی دکان میں گھس آئے اور یہ تاریخی ریڈیو چرا لے گئے۔ یہ نقصان صرف ان کے لیے نہیں بلکہ گوادر کی کرکٹ ورثے سے جڑی یادوں کے لیے بھی ایک بڑا صدمہ ہے۔ ہماری خواہش تھی کہ اس ریڈیو کو گوادر کرکٹ اکیڈمی کے یاسر سنی کانفرنس ہال/میوزیم میں بطور ورثہ محفوظ کیا جائے، مگر ہم اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ گوادر کرکٹ کے سنہری دور میں “موروک (مراد بخش) ہوٹل” مشہور مقامی کرکٹ کلبوں جیسے گوادر الیون، اا۔ ہمیں عزیز انور سے ملاقات کا بھی اعزاز حاصل ہوا، جو اپنے دور کے تیز ترین باؤلرز میں شمار کیے جاتے تھے اور جنہوں نے اپنی صلاحیت اور لگن سے گوادر کرکٹ کی شاندار خدمت کی۔ ان جیسی شخصیات اور ابراہیم جماعت جیسے لوگ عزت اور اعتراف کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے گوادر کی کھیلوں کی شناخت کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس ملاقات نے بچپن کی حسین یادیں تازہ کر دیں — وہ راستے جو کانجل کرکٹ گراؤنڈ کی طرف جاتے تھے، جہاں نوجوان کرکٹ شائقین سینئر کھلاڑیوں کو جذبے اور مہارت کے ساتھ کھیلتے دیکھتے تھے۔ صدرالدین جعفر، مجید کامریڈ، نورالدین، ماما امام بخش امام، ماسٹر رسول بخش، کیپٹن غنی آصف، غفور ساجد، کہدہ محمد، مجید راجا، استاد اسحاق، علی شاہین، مراد قریش، پرویز جمیل، سعید نوری، کیپٹن قادر، ماسٹر دلپھل ' جماعت جمی ' حنیف وسیم مسقط ' سکندر، شمس، اسحاق بلوچ، شاہد سہرابی، خورشید ' فیض نگوری، کریم چھوٹا، ناصر قادر بخش ، غلام قادر کرمانی، کریم نواز، حسین، کیپٹن رسول بخش، کریم شیر، دوست محمد لولو، نیاز گل، عزیز انور، اسلم کٹے ، عبدالرحمن عابد، خیر جان خیرول ، الٰہی بخش شعیب، خالد سبیل، عزیز گورا، امین، حاجی غلام نگوری، عین قادر، باسط لطیف، جانسمین، زاہد سعید، اصغر حسین، یونس حسین، حمید عمران، اللہ بخش ڈی سی، مولانا عبد الہادی، بلال پنجابی اور ایم اقبال جیسے عظیم نام آج بھی گوادر کرکٹ میں اپنی خدمات کے باعث محبت اور فخر سے یاد کیے جاتے ہیں۔ دھوریہ کے قریب پرانی فش مارکیٹ، شاہی بازار میں جمیل درزی کی دکان، کریموک ہوٹل، جماعت خانہ، والی کلات /واچ ٹاور، اور خدا بخش حلوائی' جماعت خانہ ' مندر ' حاجی بنگالی کی دکان آج بھی گوادر کے قیمتی تاریخی اور جذباتی ورثے کا حصہ شمار کیے جاتے ہیں ۔ ان مقامات کو کھنڈرات کی شکل میں دیکھ کر دل ایسے جذبات سے بھر گئے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔۔وہ کاغز کی کشتی وہ بارش کا پانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے کریموک ہوٹل میں عزیز انور کے ساتھ چائے پی، یادگار تصاویر بنائیں، اور اُس دور کو یاد کیا جب سادگی، دوستی، کھیل کا جذبہ اور سماجی ہم آہنگی گوادر کو واقعی ایک خاص مقام بناتے تھے۔ آج ہم ابراہیم جماعت کو ان کی مسلسل محنت، دیانت داری، لگن، اور گوادر کرکٹ کی یادوں کو زندہ رکھنے کی زندگی بھر کی کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ وہ صرف ایک محنتی دکاندار ہی نہیں بلکہ گوادر کے لوگوں کے لیے استقامت، جذبے' جہد مسلسل کا استعارہ اور تاریخی یادداشت کی علامت بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی اور درازیٔ عمر عطا فرمائے۔ نیک تمناؤں کے ساتھ، انتظامیہ: گوادر کرکٹ اکیڈمی گوادر ” #unfreezemyacount🙏 #unfreezemyacount🙏

About