@lyyenngoctole: #xuhuong #viral #datrang

lyyenngoctole
lyyenngoctole
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 27 June 2026 10:18:03 GMT
13449
242
14
11

Music

Download

Comments

linhlinh87_0
linhlinh87_0 :
mún sao ạh
2026-06-29 10:50:57
1
vyhaysuy0
Bichvy😊 :
Sao gio e moi bk đến c 😭
2026-08-02 13:17:16
0
nguynthduyn967
mát cha lát te :
Nhiêu ạ
2026-07-23 04:47:00
0
nnhu202095
nnhu201195 :
Màu này màu gì bà
2026-07-06 07:41:10
1
usernoname070207
tí khờ :
Mua đồ ib ở đâu v ạ, ib mấy acc hok tl
2026-06-27 11:59:43
0
chinn99_
Nguyễn Phương Trinh :
Về thêm bộ này đi ngoic
2026-07-31 09:47:02
0
muop3108
3108 :
cái màu nó xuất sắc luôn cổ oi
2026-06-27 10:47:19
0
nguynthduyn967
mát cha lát te :
Bộ này còn không chị
2026-07-28 02:20:14
0
ngo_ah
Kênh mẹ Nếp🍄‍🟫 :
Còn bi hồng k c
2026-07-13 06:11:36
0
To see more videos from user @lyyenngoctole, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مفسرِ عصر، راس المحققین حضرت علامہ مولانا شمس الحق افغانی صاحب رحمہ اللہ  (اکابرِ امت کا روشن ستارہ)وہ جن کے علم کی خوشبو سے برصغیر کا ذرہ ذرہ مہک اٹھا،  جو زہد و تقویٰ کا ہمالیہ اور علومِ الٰہیہ کا بحرِ بے کنار تھے۔ ایک ایسی شخصیت جن کا قلم اور زبان دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔ آپ کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے تاریخی اور مردم خیز علاقے چارسدہ (ترنگزئی) سے تھا۔ علم و حکمت کا یہ آفتاب 1901ء (بمطابق 17 رمضان المبارک 1318ھ) کو طلوع ہوا، جس نے آگے چل کر کفر و الحاد کے اندھیروں کو مٹایا۔ آپ نے علومِ نبوت کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے وقت کی عظیم ترین دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا: وہاں آپ نے امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے بحرِ علم اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی بے پناہ ذہانت کی بدولت دنیا نے آپ کو
مفسرِ عصر، راس المحققین حضرت علامہ مولانا شمس الحق افغانی صاحب رحمہ اللہ (اکابرِ امت کا روشن ستارہ)وہ جن کے علم کی خوشبو سے برصغیر کا ذرہ ذرہ مہک اٹھا، جو زہد و تقویٰ کا ہمالیہ اور علومِ الٰہیہ کا بحرِ بے کنار تھے۔ ایک ایسی شخصیت جن کا قلم اور زبان دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔ آپ کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے تاریخی اور مردم خیز علاقے چارسدہ (ترنگزئی) سے تھا۔ علم و حکمت کا یہ آفتاب 1901ء (بمطابق 17 رمضان المبارک 1318ھ) کو طلوع ہوا، جس نے آگے چل کر کفر و الحاد کے اندھیروں کو مٹایا۔ آپ نے علومِ نبوت کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے وقت کی عظیم ترین دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا: وہاں آپ نے امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے بحرِ علم اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی بے پناہ ذہانت کی بدولت دنیا نے آپ کو "شمس العلماء" (علما کا سورج) کے لقب سے پکارا مولانا افغانی رحمہ اللہ کا علم صرف مدارس تک محدود نہ تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا: جب فرانس کے دارالحکومت پیرس کے بڑے بڑے مغربی فلاسفہ اور مستشرقین نے اسلام پر اعتراضات اٹھائے، تو آپ نے اپنے علمی دلائل سے انہیں لاجواب کیا۔ پیرس کے مشہورِ زمانہ مسلم اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ آپ کی قرآنی بصیرت اور فلسفیانہ گرفت کے شدید معترف تھے۔ بالآخر علم و معرفت کا یہ چمکتا ہوا چاند 16 اگست 1983ء کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور امتِ مسلمہ ایک عظیم مفسر اور سرپرست سے محروم ہو گئی۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا اللہ پاک حضرت مولانا کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین

About