@shazo0005: مجھے سفید جوڑے کی چاہ تھی، مگر ماں مجھے لال جوڑے والی کے حوالے کرنا چاہتی تھی۔ ماں کو کیا معلوم تھا کہ میرا دل پہلے ہی کسی ایسے خواب کے ساتھ دفن ہو چکا تھا جو کبھی پورا نہ ہو سکا۔ وہ میری ہنسی دیکھ کر سمجھتی تھی کہ میں خوش ہوں، لیکن میری خاموشی میں برسوں کی تھکن چھپی تھی۔ ہر شام وہ شادی کی بات کرتی، اور میں مسکرا کر “جی اماں” کہہ دیتا۔ مگر رات کو تنہائی میں دل ایک ہی دعا مانگتا تھا: “یا اللہ، اگر میرے نصیب میں سکون نہیں، تو مجھے صبر عطا فرما۔” ایک دن ماں نے کہا: “بیٹا، لال جوڑے میں دلہن بہت خوبصورت لگتی ہے۔” میں نے نظریں جھکا کر آہستہ سے جواب دیا: “اماں… کچھ لوگوں کے نصیب میں دلہن کا لال جوڑا نہیں، صرف کفن کا سفید جوڑا لکھا ہوتا ہے۔” ماں خاموش ہو گئی۔ شاید پہلی بار اسے میری آنکھوں میں وہ درد نظر آیا جسے میں برسوں سے مسکراہٹ کے پیچھے چھپا رہا تھا۔ اس رات مجھے احساس ہوا کہ بعض لوگ محبت میں نہیں ہارتے، بلکہ اپنی امیدوں کے جنازے خود اٹھاتے ہیں، اور پھر بھی دنیا کے سامنے مسکراتے رہتے ہیں۔ “ہر انسان کی خاموشی کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہوتی ہے، جو اگر لفظوں میں آ جائے تو آنکھیں نم ہو جائیں۔#