@may0402020: Mặc áo mưa này thì không sợ ướt nha✨ #aomua#aomualadicare #thienlongpharma

Mây thích Rìviu⛅️
Mây thích Rìviu⛅️
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 27 June 2026 12:22:55 GMT
785
18
14
3

Music

Download

Comments

ngoc.ha477
🧺Ngọc Hà Review𓇼🐚𓆉︎ ࿔* :
ưng nha
2026-06-27 12:26:01
1
cici.say.hi
Cici say hi :
Ui dày dặn lắm ý
2026-06-30 10:35:38
0
nn_nhi01
Nguyễn Ngọc Nhi :
Ưng lắm nha
2026-06-30 07:14:53
0
miin.ri.diu
Miin rì diu ✨️ :
Áo mưa dày dặn lắm
2026-06-28 02:14:18
0
dra_523
MinStore✨ :
Xịnn
2026-06-27 15:47:58
0
cuocsongdepxinhmoingay
THÁI ĐẮK LẮK DÉP XINH :
Rẻ tốt lắm nè
2026-06-27 13:59:35
0
mcayu54
Phú bà nghèo khổ 😭 :
Êm
2026-06-27 13:11:15
1
aura75424
Aura🍀 :
giá hời quá b
2026-06-27 14:15:00
0
kieutrang.9898
Kiều Trang :
Áo mặc thoải mái lắm
2026-06-27 13:39:30
1
yourfirstlove_06
Sùng A Bò 🐮 :
mê nha
2026-06-27 16:17:46
0
.nhi.thch.unbox
🎀 Nhi Thích Unbox 🎀 :
Xịn quá
2026-06-30 13:17:51
0
aniki_97
𝘼𝒏𝒊𝒌𝒊𝒊 🍀 :
Xịn thật
2026-06-27 23:41:31
0
stinclratent_04
Thu Phương review :
Áo mưa xịn
2026-06-27 16:06:14
0
meyeucuatunganh
⋆˚࿔ Nobi rì viu 𝜗𝜚˚ :
Ê tui cũng xài em này , phải nói là siêu ưng lun
2026-06-27 20:53:05
0
To see more videos from user @may0402020, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

POST
POST"94/#viralpoetry🥀🥺 ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib✨️ #Allamaiqbal ⚘️⚘️⚘️⚘️⚘️⚘️⚘️ #deeplinespeotry🥀 شعر:🥀✨️ بے لباس آئے تھے اس دنیا میں غالب🥀 ایک کفن کے لیے اتنا سار سفر کر گئے🪶 ​دنیا کی بے ثباتی اور انسان کی نادانی: اس شعر میں غالب نے انسان کی پوری زندگی کا نچوڑ پیش کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل خالی ہاتھ اور بے لباس ہوتا ہے، یعنی اس کے پاس اپنی ملکیت کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن دنیا میں آتے ہی وہ مادی چیزوں، مال و دولت، رتبے اور جائیداد کے پیچھے اندھا ہو کر بھاگنے لگتا ہے۔ ​زندگی کا اصل حاصل: انسان اپنی پوری زندگی (جو کہ ایک طویل سفر کی مانند ہے) اسی بھاگ دوڑ اور محنت میں گزار دیتا ہے۔ لیکن جب اس کی موت کا وقت آتا ہے، تو وہ ان تمام چیزوں میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔ اس کی پوری زندگی کی کمائی اور اتنے لمبے سفر کا آخری صلہ صرف چند گز کا "کفن" ہوتا ہے۔ ​حاصلِ کلام: غالب انسان کو اس کی حقیقت یاد دلا رہے ہیں کہ جس دنیا کے لیے تم رات دن ایک کر رہے ہو، وہاں سے آخر کار تمہیں صرف ایک کفن ہی ملنا ہے، اس لیے دنیا کی عارضی آسائشوں میں کھو کر اپنی عاقبت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ​2. Allama Iqbal ke Sher ki Tafseeli Tashreeh ​شعر: یہ کفن دفن جنازے سب رسم شریعت ہے اقبال مر تو انسان تب ہی جاتا ہے جب کوئی یاد کرنے والا نہ ہو ​جسمانی موت بمقابلہ معنوی موت: علامہ اقبال اس شعر میں موت کے ایک بالکل الگ اور گہرے فلسفے کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب کسی کا سانس رک جاتا ہے اور اس کا جسم بے جان ہو جاتا ہے، تو معاشرہ شریعت کے احکامات کے مطابق اسے غسل دیتا ہے، کفن پہناتا ہے اور جنازہ پڑھا کر دفن کر دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ صرف ایک ظاہری اور مادی عمل ہے، یہ انسان کی حقیقی موت نہیں ہے۔ ​حقیقی موت کیا ہے؟ اقبال کے مطابق انسان اصل میں تب مرتا ہے جب وہ دنیا سے اس طرح رخصت ہو کہ اس کے بعد اسے کوئی یاد کرنے والا نہ رہے۔ اگر ایک انسان زندگی بھر صرف اپنے لیے جیا اور کوئی ایسا کام نہ کیا جس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے، تو جسمانی موت کے ساتھ ہی اس کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ ایسا انسان دنیا کے لیے جیتا جی بھی مردہ تھا اور مرنے کے بعد بھی مردہ ہے۔ ​زندہ جاوید رہنے کا راز: اس شعر کا چھپا ہوا پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں اچھے اخلاق، نیکی، محبت اور ایسے اعلیٰ کارنامے انجام دینے چاہئیں کہ مرنے کے بعد بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔ تاریخ میں وہی لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جنہیں ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے دنیا یاد رکھتی ہے۔ یہ کفن دفن جنازے سب رسم شریعت ہے اقبال مر تو انسان تب ہی جاتا ہے جب کوئی یاد کرنے والا نہ ہو۔ ​ڈسکرپشن: علامہ اقبال کا یہ شعر دل کو چھو لینے والی سچائی بیان کرتا ہے کہ انسان کی اصل موت جسم کا ختم ہونا نہیں، بلکہ اپنوں کے دلوں سے اتر جانا اور فراموش ہو جانا ہے۔

About