@asifkhansaad: کوئٹہ ایک بار پھر خون میں نہا گیا، حکومت کی امن و امان کی دعوے سوالیہ نشان بن گئے کوئٹہ کے علاقے بلیلی کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کابل جان ہوٹل کے مالک اور معروف تاجر ہاشم خان نورزئی جاں بحق ہو گئے۔ حملہ آور دن دہاڑے واردات کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حسبِ معمول تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر بلوچستان، خصوصاً کوئٹہ میں شہری کب تک خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے رہیں گے؟ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ اور قتل کے واقعات اس تاثر کو مضبوط کر رہے ہیں کہ امن و امان برقرار رکھنے میں متعلقہ ادارے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر دارالحکومت کے اہم علاقوں میں بھی شہری اور تاجر محفوظ نہیں، تو عام آدمی اپنی جان و مال کے تحفظ کی امید کس سے رکھے؟ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرے، ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے، تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے