@waqar_writes12: "استنبول کی مسجد میں ایک ضعیف ترک سے پوچھا گیا کہ آپ نبی ﷺ کا نام سن کر سینے پر ہاتھ کیوں رکھتے ہیں؟ اس کا جواب رلا دینے والا تھا!" استنبول کی عظیم الشان 'نیلی مسجد' میں جمعے کا خطبہ جاری تھا۔ جوں ہی خطیب نے سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نامِ مبارک لیا، میرے ساتھ بیٹھے ایک ضعیف ترک بزرگ نے فوراً اپنا سیدھا ہاتھ مضبوطی سے اپنے دل پر رکھا، آنکھیں بند کیں اور عقیدت سے سر جھکا لیا۔ نماز کے بعد میں نے تجسس سے پوچھا: "بابا جی! درود تو ہم بھی پڑھتے ہیں، لیکن آپ ترک لوگ نبی پاک ﷺ کا نام سنتے ہی سینے پر ہاتھ کیوں رکھ لیتے ہیں؟" اس بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے ایک ایسا لرزہ خیز جواب دیا جس نے مجھے اندر تک ہلا دیا: "بیٹا! ہماری سلطنتِ عثمانیہ (Ottoman Empire) میں صدیوں تک یہ آدابِ شاہی کا حصہ تھا کہ جب بھی بادشاہ سلامت کا ذکر ہوتا، تو سب لوگ احتراماً سینے پر ہاتھ رکھ لیتے تھے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دونوں جہانوں کے سب سے بڑے سلطان ﷺ کا نام لیا جائے اور ایک ترک کا دل احترام میں کھڑا نہ ہو؟" اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: "ہم سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنے دھڑکتے ہوئے دل کو بتاتے ہیں کہ ادب سے دھڑک... مدینے والے آقا ﷺ کا ذکر ہو رہا ہے! ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ یا رسول اللّٰہ ﷺ، آپ کا نام صرف ہماری زبانوں پر نہیں، ہمارے سینوں میں بستا ہے۔" ترکوں کی یہ صدیوں پرانی روایت کوئی عام رسم نہیں، بلکہ عشقِ رسول ﷺ اور روحانی تسکین کی وہ معراج ہے جہاں پہنچ کر انسان کا وجود اپنے آقا ﷺ کے ادب میں جھک جاتا ہے۔ #EshqeRasool #TurkishCulture #OttomanEmpire #IslamicHistory