@wajiha.06: وہ کہتا تھا، ہر بات پر بھروسہ مت کرنا، ہر دعوائے محبت کو سچ مت سمجھنا، اور ہر اُس شخص سے بچ کر رہنا جو تمہیں خاص ہونے کا احساس دلائے۔ میں حیران ہوتی تھی کہ آخر اسے اتنا خوف کیوں ہے، اتنا شک کیوں ہے ان لوگوں سے جنہیں وہ جانتا تک نہیں۔ پھر ایک دن سمجھ آئی کہ وہ دوسروں کو نہیں، خود کو جانتا تھا۔ اسے معلوم تھا لفظوں سے دل جیت کر دل کیسے توڑے جاتے ہیں، وابستگی پیدا کر کے کیسے بے نیازی اوڑھ لی جاتی ہے، اور محبت کے نام پر کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ وہ مرد تھا، اور شاید اسے لگتا تھا کہ جیسے وہ ہے، ویسے ہی سب ہوں گے۔ اسی لیے بار بار کہتا تھا کہ مردوں سے فاصلے میں بھلائی ہے، کیونکہ وہ دوسروں کے کردار سے نہیں، اپنی فطرت سے واقف تھا۔ مشورہ دیتا تھا وہ مجھے مردوں سے دور رہنے کا، بڑا گہرا علم تھا اسے مرد ہونے کا۔ وہ جانتا تھا کہ محبت کے لفظ ہمیشہ محبت نہیں ہوتے، اور وفا کے وعدے اکثر وقت گزاری کا ہنر ہوتے ہیں۔ میں سمجھتی رہی وہ دنیا کا تجربہ بیان کرتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے ہی عکس سے ڈراتا تھا مجھے۔ شاید اسے گمان تھا کہ سارے مرد اسی کی طرح محبت کو کھیل سمجھتے ہیں، کیونکہ انسان اکثر دوسروں کو بھی اپنے ہی پیمانے سے ناپتا ہے۔ #foryoupage