@muslimalhumdulliah1: ہسپتال کی عمارتیں بظاہر سیمنٹ اور اینٹوں کا ایک ڈھانچہ ہوتی ہیں، لیکن ان کے اندر سانس لیتی ہوئی دنیا امید، خوف، دعا اور بے چینی کا ایک سمندر ہوتی ہے۔ جب کوئی اپنا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو، تو ہسپتال کی وہ ٹھنڈی اور لمبی راہداریاں مکہ کی تاریخی پہاڑیوں "صفا اور مروہ" کی یاد دلا دیتی ہیں۔ یہ محض ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگنا نہیں ہوتا، بلکہ یہ محبت، بے بسی اور امید کی وہ تڑپ ہے جو انسان کو ایک پل چین نہیں لینے دیتی۔ تڑپ اور بے چینی کا سفر جس طرح حضرت ہاجرہؑ نے اپنے معصوم بچے حضرت اسماعیلؑ کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان بے قرار ہو کر چکر لگائے تھے، بالکل اسی طرح ہسپتال میں موجود ہر شخص اپنے مریض کی زندگی کی آس میں ہانپتا ہوا دوڑتا ہے۔ کبھی فارمیسی کی طرف: جہاں دوا کی ایک شیشی میں زندگی کی امید چھپی ہوتی ہے۔ کبھی لیبارٹری کی طرف: جہاں ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار دل کی دھڑکنیں بڑھا رہا ہوتا ہے۔ کبھی ڈاکٹر کے کمرے کے باہر: جہاں ہر آہٹ پر نظریں جم جاتی ہیں کہ شاید کوئی اچھی خبر مل جائے۔ محبت کا امتحان ہسپتال میں دوڑتے ہوئے ان قدموں میں تھکن نہیں ہوتی، بلکہ ایک انوکھا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنے سارے غرور، اپنی ساری مصروفیات بھول کر صرف اور صرف اپنے پیارے کی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ وہاں نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، سب کی آنکھوں میں ایک ہی التجا ہوتی ہے اور سب کے دلوں میں ایک ہی دعا۔ نتیجہ بلاشبہ، ہسپتال میں اپنے اپنوں کے لیے بھاگتے ہوئے یہ لوگ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رشتوں کا احساس اور انسان کی تڑپ آج بھی زندہ ہے۔ صفا و مروہ کی طرح یہ دوڑ بھی اللہ کے حضور ایک پوشیدہ عبادت بن جاتی ہے، جہاں بندہ اپنی بے بسی کا اعتراف کرتا ہے اور شفا صرف اسی ذاتِ باری تعالیٰ سے مانگتا ہے۔ خداوندِ کریم ہسپتال کی راہداریوں میں دوڑتے ہوئے ہر بے قرار دل کو سکون عطا فرمائے اور ان کے اپنوں کو کامل شفا دے۔ (آمین) #viralvideos