@urduadab144: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سورۃ البقرۃ پڑھا کرو، اس کا پڑھنا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت، اور جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔” حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 804 اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے سورۂ البقرہ کی عظمت، اس کی برکت اور اس کی روحانی حفاظت کو بیان فرمایا ہے، یعنی سورۂ البقرہ کی تلاوت مومن کی زندگی میں خیر و برکت، رحمت اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا سبب بنتی ہے، جبکہ اس کی تلاوت سے غفلت اور اسے چھوڑ دینا محرومی اور حسرت کا باعث ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے جادو اور باطل طاقتیں اس کے اثر کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو قرآنِ کریم، خصوصاً سورۂ البقرہ کی تلاوت کو اپنی زندگی کا معمول بنانا چاہیے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص باقاعدگی سے سورۂ البقرہ کی تلاوت کرے یا اپنے گھر میں اس کی تلاوت کا اہتمام کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، برکت اور حفاظت کی امید رکھ سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، ہدایت اور رحمت ہے، اور سورۂ البقرہ کی تلاوت ایمان کو مضبوط، گھر کو بابرکت اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا ذریعہ بناتی ہے۔