@hiravibes0: :کبھی کبھی زندگی انسان کو وہاں لا کھڑا کرتی ہے جہاں مضبوط بننا مجبوری بن جاتا ہے۔ دل تھک چکا ہوتا ہے، روح بوجھل ہو جاتی ہے، اور انسان صرف اتنا چاہتا ہے کہ کچھ لمحوں کے لیے سکون سے جیئے، بغیر کسی جنگ کے، بغیر کسی دکھ کے۔ مگر حالات پھر بھی اسے سنبھلنے، مسکرانے اور خود کو جوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ سب کو لگتا ہے کہ مضبوط لوگ کبھی نہیں ٹوٹتے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ خاموشی سے بکھرتے ہیں۔ وہ چیخنا چاہتے ہیں، کسی کے کندھے پر سر رکھ کر رو لینا چاہتے ہیں، مگر وقت انہیں پھر سے خود کو سنبھالنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور یہی سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ انسان لڑتے لڑتے صرف خوش رہنے کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ لیکن شاید اصل بہادری یہی ہے کہ اتنی تھکن کے بعد بھی انسان اپنے اندر امید کا ایک چراغ جلائے رکھے۔ کیونکہ جو لوگ بار بار ٹوٹ کر بھی خود کو سنبھال لیتے ہیں، ایک دن زندگی انہی کے زخموں میں سکون بھی اتارتی ہے۔