@jbnchoice: اگر اس زندگی میں دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں نے تمہارا ایسے انتظار کیا جیسے عمر قید کی سزا کاٹنے والا اپنی رہائی کا انتظار کرتا ہے میں تمہیں ایسے دیکھوں گا جیسے صحرا میں پیدا ہونے والا بچہ پہلی بار سمندر دیکھتا ہے اور میں تمہیں ایسے گلے لگاؤں گا میں تمہیں ایسے گلے لگاؤں گا کہ جیسے یہ دنیا ختم ہونے والی ہے یہ شہر الفت کے سارے راستے یہ ساری گلیاں یہ سارے کوچے گواہ رہیں گے کہ ہم نے تم کو بہت تلاشا یہ بال بکھرے ترستی انکھیں تھکا بدن یہ اکھڑتی سانسیں گواہی دیں گی کہ ہم نے تم کو بہت تلاشی تمہاری راہوں میں چلتے چلتے ہمارے پاؤں میں پڑ چکے ہیں یہ جتنے چھالے تمہارے اگے یہ پھٹ پڑیں گے کہ ہم نے تم کو بہت تلاش ہے ابھی کے راستے میں چھوڑ کر ہم کو جانے والے کبھی جو گزرو گے تم کہیں سے ہماری ساری لگی صدائیں کہ جو فضاؤں میں کھو چکی ہیں وہ یک زباں تم سے کہہ اٹھیں گی کہ ہم نے تم کو بہت پکارا کہ ہم نے تم کو کہ ہم نے تم کو بہت تلاشا @SAIRA NOMAN