@beclaudiachallenge: POV: Entraste por un bolígrafo… y terminaste llevándote el kit completo. 😍🩷 Si amas la papelería bonita, este set es un sueño. Incluye bolígrafos, marcadores, resaltadores, minas, estuche y todo en colores pastel que hacen que estudiar, trabajar o planificar sea mucho más divertido. ✨📚 Porque sí… cuando tus útiles te encantan, hasta dan ganas de organizarse. 💕 ¿Cuál color elegirías? Déjamelo en los comentarios y te paso el link. 🛒 #Stationery #PapeleríaBonita #StudyTok #DeskSetup #schoolsupplies

beclaudiachallenge
beclaudiachallenge
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 27 June 2026 23:49:16 GMT
22
2
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @beclaudiachallenge, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

محبت کے نام پر کیا سے کیا ہو گئی پر پھر بھی قدر نہیں ملی۔۔ ‏54 سالہ فرانسیسی خاتون سلویا یاسمینا فرانس میں اپنے شوہر کا سہارا بنی رہیں مالی مدد کرتی رہیں خاندان کو سنبھالتی رہیں مگر پھر 2014 میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو ان کی زندگی جیسے ایک قید خانے میں بدل گئی ‏ان کے مطابق انہیں برسوں تک گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی کسی سے ملنے بات کرنے یا فون استعمال کرنے تک کی آزادی چھین لی گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی روزانہ جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ان کی بیٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی ‏کئی برس خاموشی میں گزر گئے۔ ‏پھر ایک دن ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کی گھر سے نکل کر پولیس تک خبر پہنچائی اور یوں ایک ماں اور اس کے بچوں کے لیے آزادی کی کرن نمودار ہوئی۔ ‏خیبر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو باڑہ میں ایک خستہ حال کچے گھر سے بازیاب کیا اور شوہر کو گرفتار کر لیا سلویا یاسمینا اب اپنے بچوں کے ساتھ فرانس واپس جانا چاہتی ہیں جہاں شاید وہ ایک نئی اور پُرامن زندگی کا آغاز کر سکیں۔ #lovestory #frenchwoman #independant #kpk
محبت کے نام پر کیا سے کیا ہو گئی پر پھر بھی قدر نہیں ملی۔۔ ‏54 سالہ فرانسیسی خاتون سلویا یاسمینا فرانس میں اپنے شوہر کا سہارا بنی رہیں مالی مدد کرتی رہیں خاندان کو سنبھالتی رہیں مگر پھر 2014 میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو ان کی زندگی جیسے ایک قید خانے میں بدل گئی ‏ان کے مطابق انہیں برسوں تک گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی کسی سے ملنے بات کرنے یا فون استعمال کرنے تک کی آزادی چھین لی گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی روزانہ جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ان کی بیٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی ‏کئی برس خاموشی میں گزر گئے۔ ‏پھر ایک دن ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کی گھر سے نکل کر پولیس تک خبر پہنچائی اور یوں ایک ماں اور اس کے بچوں کے لیے آزادی کی کرن نمودار ہوئی۔ ‏خیبر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو باڑہ میں ایک خستہ حال کچے گھر سے بازیاب کیا اور شوہر کو گرفتار کر لیا سلویا یاسمینا اب اپنے بچوں کے ساتھ فرانس واپس جانا چاہتی ہیں جہاں شاید وہ ایک نئی اور پُرامن زندگی کا آغاز کر سکیں۔ #lovestory #frenchwoman #independant #kpk

About