@gehri_bateen: اس میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ اکثر لوگ کسی انسان کو اُس کے خلوص، کردار یا سچائی کی بنیاد پر نہیں پرکھتے، بلکہ اپنے فائدے اور مطلب کے مطابق اس کے قریب یا دور ہوتے ہیں۔ “جو فائدہ دے وہ قریب” یعنی جب تک کسی سے کوئی فائدہ، سہارا یا ضرورت وابستہ ہو، لوگ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی مطلب ختم ہو جائے، بہت سے رشتے اور تعلقات بھی بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان وقت کے ساتھ سیکھتا ہے کہ ہر ساتھ دینے والا مخلص نہیں ہوتا۔ “اور جو سچ بولے وہ اکثر تنہا رہ جاتا ہے” سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ جو شخص حق بات کرتا ہے، غلط کو غلط کہتا ہے یا منافقت کا حصہ نہیں بنتا، لوگ اکثر اس سے دور ہو جاتے ہیں کیونکہ سچ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے سچے لوگ کبھی کبھی ہجوم میں بھی تنہا محسوس کرتے ہیں۔ “ہر ہجوم اپنا نہیں ہوتا” یہ جملہ زندگی کا بہت بڑا سبق ہے۔ ہر وہ شخص جو ہمارے ساتھ نظر آئے، ضروری نہیں کہ وہ دل سے بھی ہمارا ہو۔ کچھ لوگ صرف وقت، فائدے یا حالات کی وجہ سے ساتھ ہوتے ہیں۔ اصل اپنے وہ ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں بھی اخلاص کے ساتھ کھڑے رہیں۔ یہ اقتباس انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ: ہر تعلق پر فوراً بھروسہ نہ کیا جائے، سچائی چھوڑنے کے بجائے تنہائی برداشت کر لی جائے، اور لوگوں کی تعداد سے زیادہ اُن کے خلوص کو اہمیت دی جائے۔ #UrduShayari #gehri_bateen