@ufresh.256:

U-Fresh 256
U-Fresh 256
Open In TikTok:
Region: UG
Sunday 28 June 2026 17:09:58 GMT
19
2
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ufresh.256, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی کو ہندوستان میں رہ جانے والی زرعی اراضی کے عوض یونٹوں کی صورت میں نارنگ منڈی کے دیہات کچلی فرخنده آباد، ننگل، بچھر، نواں پنڈ اور مانگٹ نام کے دیہات میں 100 مربع زمین الاٹ ہوئی۔ لیاقت علی خان (مرحوم) کی ان زمینوں کی دیکھ بھال ان کی صاحبزادی ساجدہ لیاقت علی نے سنبھالی اور مقامی زمینداروں کو ٹھیکہ پر زمین دے کر کاشت کاری شروع کرادی۔ جب ساجدہ لیاقت علی اپنی زمینوں پر کاشت کاری کے لیے مزارعے تلاش کر رہی تھیں تو انہیں کر تو، پنڈوریاں، کے رہائشی چوہدری رحمت علی اور چوہدری فتح محمد بٹر کی طرف سے پیش کش ہوئی کہ وہ انہیں بہتر پیداوار دیں گے، لہذا انہیں بھی قریبی دیہات میں زمین ٹھیکہ پر دی جائے۔ چوہدری رحمت علی ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا جب کہ چوہدری فتح محمد بڑ ایک با اثر زمیندار کی حیثیت سے علاقہ میں مشہور تھا۔ جبکہ  چوہدری رحمت علی کا باپ کرتو گاؤں سے ملحق  موضوع  بھونڈی کا نمبر دار تھا۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ساجدہ لیاقت علی نے چوہدری فتح محمد بڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے موضع کچلی میں واقع آٹھ مربع زرعی اراضی نوجوان رحمت علی کو ٹھیکہ پر دے دی۔ دوسری طرف چوہدری فتح محمد بٹر (پیپلز پارٹی کے سابقہ ایم این اے چوہدری نثار احمد پنوں کے ماموں) ساجدہ لیاقت علی اور چوہدری رحمت علی سے کچلی کی زمین حاصل کرنے کی کوششوں میں تھا۔ ایک بار چوہدری فتح محمد بڑ کے مسلح آدمیوں نے ساجدہ لیاقت علی اور چوہدری رحمت علی کو اکٹھے قتل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ چوہدری رحمت علی کا والد بھی کرتو سے ملحقہ گاؤں موضع بھونڈری کا نبردار تھا اس نے بھی اپنے بیٹے کی حفاظت اور فتح محمد بڑ کے مقابلہ کے لیے علاقے کے جرائم پیشہ لوگوں کو بھرتی کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف چوہدری فتح محمد بڑ کو ایک ایسا سخت گیر مختص میسر آگیا ہو آسانی کے ساتھ رحمت علی وغیرہ کا مقابلہ کر سکے لیکن کچھ عرصہ بعد چوہدری اسلم بڑ چوہدری فتح محمد بڑ کو چھوڑ کر چوہدری رحمت علی کے گروپ میں چلا گیا۔  ایک دن چوہدری اسلم بڑ کسی مقدمہ کی تاریخ کے سلسلہ میں  کچیری جا رہا تھا کہ راجباہ کے کنارے فتح محمد بڑ اور اس کے ساتھیوں نے اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس قتل کیس میں چوہدری فتح محمد بڑ کو سزائے موت ہوئی جو بعد میں ۸۸ء میں معطل کر دی گئی۔ ساجدہ لیاقت علی کی زمین بدستور چوہدری رحمت علی کے پاس رہی اور مخالف پارٹی جیل میں چلی گئی۔ اس دوران دونوں گروہوں میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہا اور فریقین کے لوگ قتل ہوتے رہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس جنگ میں زیادہ تر کرائے کے لوگ مارے گئے۔اس کے چند سال بعد ساجدہ لیاقت علی خان نے اپنی زمین اپنا شروع کر دی اور چوہدری رحمت کو بھی پیغام بھیجا کہ وہ زمین یا تو خود خرید لیں یا پھر اسے خالی کر دیں تاکہ کسی شخص کو فروخت کی جا سکے۔ چوہدری رحمت علی نے زمین خالی کرنے اور خود خرید نے ے انکار کر دیا۔ چوہدری رحمت علی کے انکار کے بعد ساجدہ لیاقت علی نے جیل میں چوہدری فتح محمد بڑ وغیرہ سے رابطہ کیا اور ان سے کہا  کہ اگر وہ رحمت علی سے زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس صورت میں آدھی اس کو مفت دے دی جائے گی۔ جب سزائے موت معطل ہونے کے بعد چوہدری فتح محمد بڑ وغیرہ رہا ہوئے تو انہوں نے آتے ہی پہلے کچلی کی زمین چوہدری رحمت علی سے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حملہ میں چوہدری رحمت علی گروپ نے چوہدری فتح محمد گروپ کے تین افراد کو پھڑکا دیا۔ قتل کر کے ان کی لاشیں راجباہ میں بہا دیں۔ رحمت علی کو مسلم لیگ کے سابقہ ایم این اے رانا تنویر اور چوہدری فتح محمد بڑ کو اپنے بھانجے چوہدری نثار احمد پنوں سابقہ ایم این اے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ تین افراد کے قتل کے بعد رحمت علی گروپ نے اپنا ایک آدمی خود قتل کر کے دو طرفہ مقدمہ
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی کو ہندوستان میں رہ جانے والی زرعی اراضی کے عوض یونٹوں کی صورت میں نارنگ منڈی کے دیہات کچلی فرخنده آباد، ننگل، بچھر، نواں پنڈ اور مانگٹ نام کے دیہات میں 100 مربع زمین الاٹ ہوئی۔ لیاقت علی خان (مرحوم) کی ان زمینوں کی دیکھ بھال ان کی صاحبزادی ساجدہ لیاقت علی نے سنبھالی اور مقامی زمینداروں کو ٹھیکہ پر زمین دے کر کاشت کاری شروع کرادی۔ جب ساجدہ لیاقت علی اپنی زمینوں پر کاشت کاری کے لیے مزارعے تلاش کر رہی تھیں تو انہیں کر تو، پنڈوریاں، کے رہائشی چوہدری رحمت علی اور چوہدری فتح محمد بٹر کی طرف سے پیش کش ہوئی کہ وہ انہیں بہتر پیداوار دیں گے، لہذا انہیں بھی قریبی دیہات میں زمین ٹھیکہ پر دی جائے۔ چوہدری رحمت علی ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا جب کہ چوہدری فتح محمد بڑ ایک با اثر زمیندار کی حیثیت سے علاقہ میں مشہور تھا۔ جبکہ چوہدری رحمت علی کا باپ کرتو گاؤں سے ملحق موضوع بھونڈی کا نمبر دار تھا۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ ساجدہ لیاقت علی نے چوہدری فتح محمد بڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے موضع کچلی میں واقع آٹھ مربع زرعی اراضی نوجوان رحمت علی کو ٹھیکہ پر دے دی۔ دوسری طرف چوہدری فتح محمد بٹر (پیپلز پارٹی کے سابقہ ایم این اے چوہدری نثار احمد پنوں کے ماموں) ساجدہ لیاقت علی اور چوہدری رحمت علی سے کچلی کی زمین حاصل کرنے کی کوششوں میں تھا۔ ایک بار چوہدری فتح محمد بڑ کے مسلح آدمیوں نے ساجدہ لیاقت علی اور چوہدری رحمت علی کو اکٹھے قتل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ چوہدری رحمت علی کا والد بھی کرتو سے ملحقہ گاؤں موضع بھونڈری کا نبردار تھا اس نے بھی اپنے بیٹے کی حفاظت اور فتح محمد بڑ کے مقابلہ کے لیے علاقے کے جرائم پیشہ لوگوں کو بھرتی کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف چوہدری فتح محمد بڑ کو ایک ایسا سخت گیر مختص میسر آگیا ہو آسانی کے ساتھ رحمت علی وغیرہ کا مقابلہ کر سکے لیکن کچھ عرصہ بعد چوہدری اسلم بڑ چوہدری فتح محمد بڑ کو چھوڑ کر چوہدری رحمت علی کے گروپ میں چلا گیا۔ ایک دن چوہدری اسلم بڑ کسی مقدمہ کی تاریخ کے سلسلہ میں کچیری جا رہا تھا کہ راجباہ کے کنارے فتح محمد بڑ اور اس کے ساتھیوں نے اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس قتل کیس میں چوہدری فتح محمد بڑ کو سزائے موت ہوئی جو بعد میں ۸۸ء میں معطل کر دی گئی۔ ساجدہ لیاقت علی کی زمین بدستور چوہدری رحمت علی کے پاس رہی اور مخالف پارٹی جیل میں چلی گئی۔ اس دوران دونوں گروہوں میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہا اور فریقین کے لوگ قتل ہوتے رہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس جنگ میں زیادہ تر کرائے کے لوگ مارے گئے۔اس کے چند سال بعد ساجدہ لیاقت علی خان نے اپنی زمین اپنا شروع کر دی اور چوہدری رحمت کو بھی پیغام بھیجا کہ وہ زمین یا تو خود خرید لیں یا پھر اسے خالی کر دیں تاکہ کسی شخص کو فروخت کی جا سکے۔ چوہدری رحمت علی نے زمین خالی کرنے اور خود خرید نے ے انکار کر دیا۔ چوہدری رحمت علی کے انکار کے بعد ساجدہ لیاقت علی نے جیل میں چوہدری فتح محمد بڑ وغیرہ سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ اگر وہ رحمت علی سے زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس صورت میں آدھی اس کو مفت دے دی جائے گی۔ جب سزائے موت معطل ہونے کے بعد چوہدری فتح محمد بڑ وغیرہ رہا ہوئے تو انہوں نے آتے ہی پہلے کچلی کی زمین چوہدری رحمت علی سے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حملہ میں چوہدری رحمت علی گروپ نے چوہدری فتح محمد گروپ کے تین افراد کو پھڑکا دیا۔ قتل کر کے ان کی لاشیں راجباہ میں بہا دیں۔ رحمت علی کو مسلم لیگ کے سابقہ ایم این اے رانا تنویر اور چوہدری فتح محمد بڑ کو اپنے بھانجے چوہدری نثار احمد پنوں سابقہ ایم این اے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ تین افراد کے قتل کے بعد رحمت علی گروپ نے اپنا ایک آدمی خود قتل کر کے دو طرفہ مقدمہ" کی صورت پیدا کرنا چاہی لیکن پولیس نے چوہدری رحمت علی اور اس کے بیٹے شاء اللہ کو گرفتار کر لیا۔ رحمت علی گروپ جیل چلا گیا تو چوہدری فتح محمد بڑ نے ساجدہ لیاقت علی خان کی ملکیتی اراضی پر قبضہ کر لیا۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک چوہدری فتح محمد بر گروپ کا اس زمین پر قبضہ رہا۔ اس کے بعد جب رحمت علی گروپ ضمانت پر رہا ہو کر آیا تو انہوں نے اس زمین کا دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا۔ اس وقت زمین چوہدری رحمت علی گروپ کے پاس ہے. اس سوال کا جواب اسمبلی میں ہیٹھے لوگوں سے لیا جا سکتا ہے کہ قائد ملت لیاقت علی خان کی زمینوں پہ کس کس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد ساجدہ لیاقت علی پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلی گئی۔ یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ لیاقت علی خان کو ایک جرائم پیشہ علاقے میں اراضی کیوں دی گئی۔ حوالہ۔۔کتاب کا نام پاکستان لوٹنے والے۔صفحہ 18۔21 #foryou #pakistan #England #germany #TikTok

About