@incognitoboy98: یزید نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک پر چھڑی ماری اور فخریہ اشعار پڑھے، جس پر حضرت زینبؑ نے بڑے حوصلے اور فصاحت سے جواب دیا۔ یزید نے کہا: "دیکھ لو! آج اللہ نے عزت دی ہے اور تم اس حال میں ہو۔ اللہ نے مجھے اختیار اور حکومت عطا کی ہے۔" حضرت زینبؑ نے فرمایا: "بوا کا شور بہت ہے، تمہاری آواز ٹھیک طرح سنائی نہیں دے رہی، اگر تم صاحبِ اختیار ہو تو اس ہوا کو روک دو۔" یزید نے کہا: "اے میرے اختیار میں نہیں۔" آپؑ نے فرمایا: "اے گھوڑے زمین پر مار رہے ہیں، ان کو روک دو۔" یزید نے جواب دیا: "اے بھی میرے اختیار میں نہیں۔" پھر حضرت زینبؑ نے فرمایا: "اونٹوں کے گلے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، اس شور میں بات سمجھ نہیں آ رہی، انہیں خاموش کرو۔" یزید نے کہا: "اے بھی میرے بس میں نہیں۔" تب حضرت زینبؑ نے فرمایا: "خاموش ہو جاؤ!" (یا اسی طرح کا حکم)۔ پورا دربار ساکن ہو گیا، ہوا کا شور، گھنٹیاں،گھوڑوں کے ٹاپوں سے اٹھنے والی مٹی جتنی اوپر تھی جتنی نیچے وہیں رک گئی۔ سب خاموش ہو گئے ! اور دربار میں کھڑا ہر شخص جدھر کھڑا تھا جس حالت میں تھا وہیں کا وہیں رک گیا سوائے یزید کے اور بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے ۔ اور آپ نے یزید کو بتایا اللہ کے حکم سے اج بھی سب کچھ ہمارے اختیار میں ہے تم بے بس ہو۔ پھر آپؑ نے قرآن کی آیت پڑھی: "وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ" (تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے...) اور یزید کی ظاہری طاقت کو اللہ کی مشیت سے جوڑ کر اس کی حقیقت بیان کی۔ مکمل خطبہ مختلف تاریخی کتابوں (جیسے مقتل، روایات اہل بیت) میں موجود ہے۔ معتبر ذرائع جیسے al-islam.org پر انگریزی/عربی میں پڑھ سکتے ہیں۔ab06614dfa5b ur.wikipedia.org al-islam.org