@usmanwrites113: "انسان نے ہمیشہ اپنے خیر خواہ کو، اس کے چلے جانے کے بعد ہی پہچانا ہے۔" یہ زندگی کی ان تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے جنہیں انسان اکثر بہت دیر سے سمجھتا ہے۔ جب کوئی مخلص شخص ہمارے ساتھ ہوتا ہے تو ہم اس کی موجودگی کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔ اس کی نصیحتیں ہمیں سخت لگتی ہیں، اس کی فکر ہمیں پابندی محسوس ہوتی ہے، اور اس کی محبت کی قدر ہم اس وقت نہیں کرتے جب وہ ہمارے درمیان موجود ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ شخص دور چلا جاتا ہے۔ شاید وقت کی مجبوری سے، شاید حالات کی وجہ سے، یا شاید ہمیشہ کے لیے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ جو باتیں ہمیں ناگوار لگتی تھیں، وہ دراصل ہماری بھلائی کے لیے تھیں۔ جو ہمیں روکتا تھا، وہ ہماری ترقی کا دشمن نہیں بلکہ ہمارا سب سے بڑا خیر خواہ تھا۔ زندگی ہمیں بہت سے لوگ دیتی ہے؛ کچھ خوشی کے ساتھی ہوتے ہیں، کچھ مطلب کے، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے ہماری کامیابی، عزت اور سکون کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں، اور افسوس یہ ہے کہ ان کی قدر اکثر ان کی غیر موجودگی میں ہوتی ہے۔ عقل مند وہ نہیں جو صرف کامیاب ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے مخلص لوگوں کو وقت پر پہچان لے۔ کیونکہ ہر جانے والا واپس نہیں آتا، اور ہر ٹوٹا ہوا رشتہ پہلے جیسا نہیں بنتا۔ اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو آپ کی غلطیوں پر ٹوکتا ہے، مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیتا ہے، اور آپ کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتا ہے، تو اس کی قدر کیجیے۔ ایک سچا خیر خواہ نعمت ہوتا ہے، اور نعمتوں کی قدر ان کے چھن جانے سے پہلے کرنی چاہیے۔ یاد رکھیے! اکثر انسان کو اپنے خیر خواہ کی قیمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اس کی آواز خاموش ہو چکی ہوتی ہے، اس کا ساتھ ختم ہو چکا ہوتا ہے، اور صرف اس کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ اس لیے رشتوں، مخلص لوگوں اور سچے خیر خواہوں کی قدر وقت پر کیجیے، کیونکہ بعض خسارے ایسے ہوتے ہیں جن کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ 🌿 #usmanwrites113 #foryoupage