@abdul.fattah.tunio: بلوچستان جو کبھی مہمان نوازی کا گڑ ہوا کرتا تھا یہ وہ تاریخی سر زمین ہے جہاں پشتون بلوچ ہزاروں سال سے مہمان نوازی میں پوری دنیا میں مشہور تھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچ اور پشتون کی وہ تاریخی مہمان نوازی کا خاتمہ بھی اُن کی تاریخ کی طرح تقرباً ختم ہوچکا ہے جس طرح کہا جاتا ہے کہ پشتون اور بلوچ ایک بہادر قوم تھی اسی طرح اب کہا جائے گا کہ پشتون اور بلوچ مہمان نوز تھے ہماری تاریخ اور روایات تھی یعنی ماضی کا حصہ بن چکی ہے حال کچھ اور بتا رہا ہے گراچی سے آئے ہوئے یہ مہمان کتنے خواب اور اُمیدیں لیکر آئے تھے یہ دو معصوم بچیاں جس سے والد کا سہارا چھین لیا گیا ہے کیا سوچھتے ہونگے سر زمین بلوچستان کے بارے میں یہ محترمہ جنہوں نے سُنا ہوگا کہ پشتون بلوچ مہمان نواز رحم دل تاریخی اقوام ہے کیا سوچھتی ہونگی جب اپنے شوعر کو اس حالت میں دیکھتی ہوگی ان کے دل میں یہ سوال ضرور آتا ہوگا کہ آخر ہم لوگوں کا کیا قصور تھا ؟ ہم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ؟ بلا ہم سے کسی کو کیا فائدہ کیا نقصان تھا ؟ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں#TUNIO_____SAHIB🔥💯 #geromyaccountunfreze🙏🥺 #1millionviews😘😘😘 #foryoupage #geromyaccountunfreze🙏