@rare.someone: بغیر کوئی نعمت، کوئی مقام اور کوئی کامیابی انسان کے حصے میں نہیں آتی۔ قدرت نے اس حقیقت کو ہماری ہر سانس میں سمو دیا ہے؛ نئی سانس کے لیے پرانی سانس کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہی اصول پوری زندگی پر صادق آتا ہے۔ جو شخص آرام کی زنجیریں توڑنے سے انکار کر دے، وہ کامیابی کی بلندیاں کبھی سر نہیں کر سکتا۔ ہر خواب اپنے ساتھ محنت کی قیمت، صبر کا امتحان اور قربانی کا تقاضا لے کر آتا ہے۔ قسمت صرف اُن لوگوں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہے جن کے ہاتھ محنت سے زخمی اور ارادے فولاد کی طرح مضبوط ہوں۔ جو لوگ محض خواہشوں کے سہارے جیتے ہیں، وہ حسرتوں کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں، جبکہ عمل کرنے والے اپنی تقدیر خود رقم کرتے ہیں۔ یاد رکھو، دریا بھی اُنہی کے لیے راستہ بناتے ہیں جو کنارے پر بیٹھ کر انتظار نہیں کرتے بلکہ طوفانوں میں اترنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ زندگی کبھی مفت میں کچھ نہیں دیتی؛ یہاں ہر کامیابی کے بدلے نیند، سکون، وقت یا آسائش کی کوئی نہ کوئی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اسی قربانی کے بعد انسان کی شخصیت نکھرتی ہے، کردار مضبوط ہوتا ہے اور منزل اس کے قدم چومتی ہے۔ یہی زندگی کا وہ سنہرا اصول ہے جسے سمجھ لینے والا کبھی ناکامی سے خوف زدہ نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر نئی صبح ایک پرانی رات کی قربانی کے بعد ہی طلوع ہوتی ہے۔