@hosseinvaghayei1:

Sama.vafa
Sama.vafa
Open In TikTok:
Region: SE
Monday 29 June 2026 09:32:35 GMT
70204
2791
49
164

Music

Download

Comments

jahan.kolfatbar0
Jahan Kolfatbar :
فقط خداست که از این داستان ها باخبره 🌍
2026-06-30 04:33:19
25
mzake57
Mostafa :
توی گوگل هیچکی نزنه 2029
2026-07-01 02:22:37
3
atana6665
atana :
هرکی فالو کنه فالوش میکنم
2026-07-01 10:03:11
1
rahmat.gul.kamali
Rahmat gul kamali :
صد درصد دروغ است
2026-06-29 19:23:27
3
amir783189
amir✨ :
بیا از این هم شانس نیاوردیم
2026-07-01 16:53:22
0
hossein.khanmoham8
hosseinkhanmohammadi :
تخیلی 🥰🥰🥰❤️❤️❤️🌹🌹🌹
2026-06-30 03:05:54
2
user1216330610318
مسعود جاذب :
بنظر میاد خیالی باشه
2026-06-29 10:54:37
2
jamshidy065
jamshidy :
صددردصدراسته
2026-06-30 21:37:48
1
eli824671
eli :
مقصدشم ایرانه
2026-06-30 19:47:38
2
user1778584636182
حمید شیروانی :
همه چیز ازتخیل شروع میشود وبعد مکتوب وبعدتحقق می یابد👍
2026-07-01 14:57:07
0
fatemehmohammadi41
jjeb vj :
الان به ایران چه ربطی داره
2026-07-01 04:46:01
1
blacksenator1
Holy Azriel :
صد درصد بی دلیل نیست جنگ هم فرکانس استرس و اظطراب بالا میبره
2026-06-30 23:49:21
1
jahanmoradi1
Jahanbakhsh :
چرت پرت
2026-06-30 08:30:33
1
hoory.ghaemi2
Hoory ghaemi :
alls luge
2026-06-29 14:28:04
1
user92736158391490
محمد :
براي أطفال خوب است 😁😁😁
2026-06-30 14:32:36
1
khabalo.i
KHABALO :
داخل یمن که مال ماست
2026-07-01 09:15:29
1
sajadixzka4
sajadixzka4 :
دروغ
2026-07-01 14:05:14
0
mario.balack
mario balack :
دروغه
2026-07-01 12:44:05
1
mikev6205
Mike :
هوش مصنوعی چه پیشرفتی کرده
2026-07-01 05:31:04
0
shevan.ameen
Shevan Ameen :
من میگم همه دروغ است
2026-06-29 16:09:50
1
To see more videos from user @hosseinvaghayei1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایسا سوال جس نے پوری مجلس کو خاموش کر دیا! علامہ عبدالحسین امینیؒ اور حلب کے قاضی القضات کا حیرت انگیز مناظرہ کبھی کبھی ایک سوال... ہزاروں دلائل پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہے علامہ عبدالحسین امینیؒ، مصنفِ شہرۂ آفاق الغدیر کا۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ امینیؒ علمی تحقیق کے لیے شام کے تاریخی شہر حلب تشریف لے گئے۔ وہاں دن رات کتب خانوں میں قدیم اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ اسی دوران ایک نہایت مہذب، پڑھے لکھے اور خوش اخلاق سنی تاجر سے ان کی ملاقات ہوئی۔ چند ملاقاتوں میں یہ تعلق دوستی میں بدل گیا۔ ایک دن اس تاجر نے عرض کیا:
ایسا سوال جس نے پوری مجلس کو خاموش کر دیا! علامہ عبدالحسین امینیؒ اور حلب کے قاضی القضات کا حیرت انگیز مناظرہ کبھی کبھی ایک سوال... ہزاروں دلائل پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہے علامہ عبدالحسین امینیؒ، مصنفِ شہرۂ آفاق الغدیر کا۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ امینیؒ علمی تحقیق کے لیے شام کے تاریخی شہر حلب تشریف لے گئے۔ وہاں دن رات کتب خانوں میں قدیم اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ اسی دوران ایک نہایت مہذب، پڑھے لکھے اور خوش اخلاق سنی تاجر سے ان کی ملاقات ہوئی۔ چند ملاقاتوں میں یہ تعلق دوستی میں بدل گیا۔ ایک دن اس تاجر نے عرض کیا: "علامہ صاحب! کل رات آپ میرے غریب خانے کی رونق بڑھائیں، یہ میرے لیے باعثِ سعادت ہوگا۔" علامہ نے دعوت قبول کر لی... لیکن جب اگلی رات وہ اس گھر میں داخل ہوئے تو منظر کچھ اور ہی تھا۔ یہ عام دعوت نہیں تھی... گھر میں شہرِ حلب کے بڑے بڑے علماء، جامعہ کے پروفیسرز، وکلاء، تاجر، دانشور، اور سب سے بڑھ کر قاضی القضات موجود تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک علمی عدالت سج چکی ہو... کھانا ختم ہوا، محفل خاموش ہوئی، اور سب کی نظریں علامہ امینیؒ پر جم گئیں۔ اچانک قاضی القضات نے خاموشی توڑی اور بلند آواز میں کہا: "جناب امینی! آخر یہ شیعہ مذہب کس بنیاد پر قائم ہے؟ وہ کون سی دلیل ہے جس کی وجہ سے آپ لوگ اس عقیدے کو نہیں چھوڑتے؟" مجلس میں مکمل سکوت چھا گیا... ہر شخص علامہ کے جواب کا منتظر تھا۔ علامہ امینیؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "اس سے پہلے کہ میں جواب دوں، صرف ایک سوال کا جواب دے دیجیے..." پھر فرمایا: «کیا آپ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث صحیح ہے؟» ««مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»» "جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کیے بغیر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔" قاضی نے فوراً جواب دیا: "جی ہاں، یہ حدیث صحیح ہے، ہم بھی اسے قبول کرتے ہیں۔" علامہ نے فرمایا: "الحمدللہ... پھر آج کی پوری گفتگو کے لیے یہی ایک حدیث کافی ہے۔" یہ سن کر پوری مجلس حیران رہ گئی... چند لمحوں کی خاموشی کے بعد علامہ نے دوسرا سوال کیا۔ "آپ کی نظر میں حضرت فاطمہ زہراؑ کا مقام کیا ہے؟" قاضی نے فوراً جواب دیا: "حضرت فاطمہؑ قرآن کی نص کے مطابق پاک و مطہر ہیں۔ ان کی عظمت پر کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔" علامہ نے فرمایا: "بہت خوب..." پھر وہ تاریخی سوال کیا... ایسا سوال جس نے پوری مجلس کی سانسیں روک دیں... علامہ نے فرمایا: "اگر حضرت فاطمہ زہراؑ اپنے زمانے کے حکمران سے ناراض ہو کر دنیا سے رخصت ہوئیں... تو پھر حقیقت کیا ہے؟" کیا وہ حکمران واقعی برحق امام تھے؟ یا پھر (نعوذ باللہ) حضرت فاطمہؑ امامِ زمانہ کی معرفت کے بغیر دنیا سے دنیا سے رخصت ہوئیں؟ مجلس پر سناٹا چھا گیا... قاضی القضات خاموش... علماء خاموش... اساتذہ خاموش... کوئی جواب نہ دے سکا... کیونکہ اگر کہا جاتا کہ حضرت فاطمہؑ کا غضب حق تھا... تو حکمران کی حقانیت ختم ہو جاتی۔ اور اگر کہا جاتا کہ حضرت فاطمہؑ سے غلطی ہوئی... تو قرآن کی آیتِ تطہیر کے مطابق ان کے مقامِ عصمت و طہارت پر سوال اٹھتا۔ قاضی نے گفتگو کا رخ موڑنے کی کوشش کی اور کہا: "جناب امینی! اس کا ہماری اصل بحث سے کیا تعلق؟" علامہ نے انتہائی سکون سے فرمایا: "تعلق بہت گہرا ہے... کیونکہ اگر رسول اللہ ﷺ نے ہر زمانے میں امام کی معرفت کو واجب قرار دیا ہے، تو پھر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس وقت برحق امام کون تھا۔" یہ سنتے ہی مجلس کے حاضرین ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے... کہا جاتا ہے کہ اسی لمحے میزبان تاجر بے اختیار بول اٹھے: «"شیخنا... اسکت! قد افتضحنا!"» "حضرت! بس کیجیے... ہم لاجواب ہو چکے ہیں۔" روایت کے مطابق گفتگو رات بھر جاری رہی، اور صبح ہونے تک کئی افراد نے علامہ امینیؒ کا شکریہ ادا کیا اور مذہبِ تشیع کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ --- حاصلِ گفتگو اس حکایت کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حدیث: «"مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ..."» شیعہ اور بہت سے سنی محدثین کی کتب میں بھی نقل ہوئی ہے، اور اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر دور میں امام کی معرفت کی اہمیت کیا ہے، اور برحق امام کی شناخت کیسے کی جائے؟ #holyshrineofimamhussain #freepalestine #muharram2026 #fry #shia

About