@bazm.faqeer: ذکر وہ نہیں جو صرف ہونٹوں کی جنبش سے ادا ہو، بلکہ اصل ذکر وہ ہے جو دل کی گہرائیوں میں خاموشی سے اتر کر روح کو بیدار کرے۔ یہی وہ ذکرِ خفی ہے جسے اہلِ دل نے “رازِ قرب” کہا ہے، کیونکہ اس میں نہ دکھاوا ہے، نہ آواز کی نمائش—بس بندہ اور اُس کا رب۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ بلند آواز ذکر کبھی کبھی نفس کو تسکین دیتا ہے، مگر خاموش ذکر نفس کو مٹاتا ہے۔ جب ذکر زبان سے اتر کر دل میں جا بسے، تو دل “عرشِ الٰہی” کا مظہر بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے وجود سے گزر کر وحدت کی خوشبو پاتا ہے۔ دلائل و حوالہ جات: 🔹 قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: “وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً” (سورۃ الاعراف 205) ترجمہ: “اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کرو۔” یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل ذکر وہ ہے جو اندرونی کیفیت کے ساتھ ہو، نہ کہ صرف ظاہر کی آواز سے۔ 🔹 ایک اور مقام پر فرمایا: “أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ” (سورۃ الرعد 28) یعنی “دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے” — اور دل کا سکون تبھی ممکن ہے جب ذکر دل میں اتر جائے۔ 🔹 حدیثِ قدسی کا مفہوم ہے: “میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔” یہاں بھی دل کے ذکر کو خاص مقام دیا گیا ہے۔ --- خاموشی کے سجدوں میں جو صدا چھپی ہوتی ہے، وہی ذکرِ خفی ہے، وہی رازِ خدا ہوتی ہے۔ جب زبان رک جائے اور دل بولنے لگے، تب بندہ خود کو کھو کر، رب کو پانے لگے۔ ذکرِ جلی میں دنیا سن لیتی ہے تیری آواز، ذکرِ خفی میں رب سن لیتا ہے تیرا راز۔ --- پس جان لے کہ ذکر کی اصل حقیقت آواز میں نہیں، حضورِ قلب میں ہے۔ اور جو دل میں اللہ کو بسا لے، وہی قربِ وحدت کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ #sufism #sufilines #goviral #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight