@chefnomipk: چاول بنائیں — اور چاول برتن میں ہی ٹوٹ جائیں۔ گلے ہوئے، لیسدار، بے جان۔ یہ چاول کا قصور نہیں۔ ابالنے کے وقت کا قصور ہے۔ زیادہ تر لوگ چاول کو پوری طرح ابال دیتے ہیں — سوچتے ہیں دم پر باقی کام ہو جائے گا۔ لیکن دم میں بھی آنچ لگتی ہے، بھاپ لگتی ہے۔ جو چاول پہلے ہی 100% پک چکا ہو وہ دم میں گل کر حلوہ بن جاتا ہے۔ 1 کنی کیا ہوتا ہے: 1 کنی مطلب چاول صرف 70% ابلا ہو — باہر سے نرم، اندر سے ابھی کچا۔ پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دانہ نکالیں، انگلی اور انگوٹھے کے درمیان دبائیں۔ دانہ ٹوٹے نہیں بلکہ مزاحمت دے — اور بیچ میں ایک چھوٹا سفید نقطہ نظر آئے۔ یہی 1 کانی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب چاول فوری نکالنے ہیں۔ باقی 30% دم پکاتا ہے — مصالحے کی بھاپ میں، آہستہ آہستہ، اندر سے۔ یہی بریانی کے دانے کو الگ، لمبا اور خوشبودار رکھتا ہے۔ عام غلطی: چاول نرم لگیں تو لوگ سمجھتے ہیں پک گئے — لیکن اگر بیچ میں سفید نقطہ ختم ہو گیا تو دیر ہو چکی ہے۔ وہ چاول کام نہیں آئیں گے۔ وقت کا اندازہ: بھگوئے ہوئے پرانے باسمتی چاول تیز ابلتے پانی میں صرف 3 سے 5 منٹ میں 1 کنی تک پہنچ جاتے ہیں۔ گھڑی لگائیں — آنکھ سے اندازہ مت لگائیں۔ یہ پوسٹ ابھی اسے بھیجیں جو چاول بناتے ہیں۔ #Biryani #rice #foryou #fbreels