@xeybun.nesa: امام زین العابدین کربلا کے بعد چالیس سال تک زندہ رہے ۔ وہ کربلا میں زندہ بچنے والے واحد انسان تھے ۔ مگر انہوں نے کبھی اس طرح گھوڑے نکالنا ، کوءیلوں پر لیٹنا ، حسین کے نام کی سبیلیں لگانا ،خود کو زنجیروں سے مرنا ، اس طرح سے ڈھول بجاتے ہوئے جلوس نکالنے والے کام کبھی نہیں کیے ۔ وہ ہر وقت غم میں ڈوبے رہتے اور دعاگو رہتے ۔ تب بھی لوگوں کو کربلا کا دکھ بتایا جاتا تھا کربلا کے سارے واقعات بتاۓ جاتے رہے مگر کسی نے سڑکوں پر جلوس نکالنے والے کام نہیں کیے ۔ اس غم کو تب غم ہی سمجھا جاتا رہا مگر اس کے تین صدیاں بعد , معزز الدولہ نے شروع کیا ، جس کو اس نے اپنے لیے سیاسی ہتھیار اور خلافتِ عباسیہ کا اثرورسوخ کم کرنے کے لیے استعمال کیا اور غم کو عوامی رسم بنادیا گیا ۔ اور پھر ہر جگہ کے لوگوں نے اپنے مطابق نئے طریقے نکالے جلوس کرنے کے ،جو اصل میں غمِ کربلا کم اور تماشہ زیادہ بن گئے ۔ اظہار غم کریں ، مجالس منعقد کریں مگر یہ اس طرح کی حرکتیں نہ کریں جو ویڈیوز میں ہیں ، یہ سوگ کم اور تماشہ زیادہ ہے ۔ یہ ویڈیو کس بھی سیاسی یا مذہبی فرقے کی حمایت یا اس کے خلاف نہیں ہے ۔ اور نہ ہی میرا کس بھی فرقے سے کوئی تعلق ہے ۔ہم سب مسلمان ہیں ۔ Disclaimer: [ The video content is not for violence, hate or abusive... Just a fact covered in veils. Doesn't intend to pormote any type of hate or violence] #ashura #muhrum #xeybunnesa #iqbal #palestine🇵🇸