@bazm.faqeer: مولانا رومی ایک حکایت میں فرماتے ہیں کہ ایک پروانہ شمع کے گرد منڈلاتا رہا۔ دور سے دیکھنے والے اسے صرف ایک معمولی سی پرواز سمجھتے تھے، مگر جب وہ شمع کے قریب پہنچا تو اس کی پرواز بے قراری میں بدل گئی۔ اور جب اس نے خود کو شمع میں جلا دیا تو وہی لمحہ اس کی تکمیل تھا۔ لوگ اسے فنا سمجھتے رہے، مگر رومی کے نزدیک وہ بقا تھی—کیونکہ اب وہ شمع سے جدا نہ رہا۔ عشق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جب تک عاشق اپنے ہوش میں رہتا ہے، وہ محبوب کو ایک شے سمجھتا ہے، ایک وجود، ایک الگ ہستی۔ مگر جب عشق غالب آتا ہے تو “میں” اور “تو” کے درمیان کی دیوار گرنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عاشق کو غیر سب بھول جاتے ہیں، نہ اس لیے کہ وہ دنیا سے نفرت کرتا ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کا دل ایک ہی مرکز پر ٹھہر جاتا ہے۔ رومی ایک اور مثال دیتے ہیں: ایک شخص دریا کے کنارے کھڑا پیاسا تھا، مگر پانی میں اترنے سے ڈرتا تھا۔ وہ اپنی عقل سے سوال کرتا رہا، حساب لگاتا رہا، گہرائی ناپتا رہا—مگر پیاس نہ بجھی۔ پھر ایک دیوانہ آیا، اس نے نہ گہرائی دیکھی نہ خطرہ، بس چھلانگ لگا دی۔ اور وہی سیراب ہو گیا۔ رومی کہتے ہیں: “عشق میں عقل کی حد تک جانا پہلا قدم ہے، مگر تکمیل اُس وقت ہے جب عقل خود راستہ چھوڑ دے۔” پس محبوب سے باہوش ہونا یہ ہے کہ دل ہر لمحہ اسی کی طرف متوجہ رہے، اور غیروں سے بے ہوش ہونا یہ نہیں کہ دنیا کو ترک کر دیا جائے، بلکہ یہ کہ دنیا دل پر حاوی نہ رہے۔ عاشق بازار میں بھی ہو تو اس کا دل خانقاہ میں ہوتا ہے، اور ہجوم میں بھی ہو تو تنہا محبوب کے ساتھ۔ یہی تکمیلِ عشق ہے—جہاں دیکھنے والا بھی وہی، دکھانے والا بھی وہی، اور نظر آنے والا بھی وہی بن جاتا ہے۔ #sufism #sufilines #goviral #creatorsearchinsight #unfreezemyaccount