@keranjangkehidupan: #paranet #paranet75persen #jaringparanet #paranetmurah #promoguncang66

keranjangkehidupan
keranjangkehidupan
Open In TikTok:
Region: ID
Monday 29 June 2026 23:56:54 GMT
41521
185
15
22

Music

Download

Comments

user7084497810504
Zuliyanto :
minat kak..caranya beli gimana
2026-07-04 09:36:39
1
bramky.reza5
bramky reza :
klik pesanan harga 48.000 ribu bukan 19.000 iklannya yg benar saja
2026-07-04 06:13:36
1
sarotsalamatan
sarot :
3x8 ada
2026-07-03 21:06:29
1
tiger81061
TIGER :
contohx baguslh
2026-07-03 23:50:03
1
ceritakehidupan9999
cerita hidup :
ok cocok
2026-07-03 21:03:17
1
suriatik72
SURIATIK :
aku mau
2026-07-04 07:18:49
0
dini.f61
dini f :
ok bagus
2026-06-30 16:27:30
1
rohani.rohani0043
Rohani Rohani :
ongkir mehong
2026-07-02 12:41:32
1
To see more videos from user @keranjangkehidupan, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا خطاب! وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے کیا جائے، جہاں عمران خان ناحق قید ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو تمام آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت جیل میں شدید متاثر ہوئی ہے اور ان کی آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ مناسب اور بروقت طبی علاج ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ذاتی معالجین سے علاج کرانے کی فوری اجازت دی جائے اور انہیں اپنے بیٹوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ انتظار کے دوران ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واٹر کینن کے استعمال کو بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کو جلسے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، مگر یہاں جلسہ ہوتے ہی ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے، حتیٰ کہ کم سن بچوں کے خلاف بھی دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت جیلوں کو روایتی قید خانوں سے حقیقی اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنے کے مشن پر عمل پیرا ہے۔ صوبے میں جیلوں کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پانچ سینٹرل جیلوں کو جدید سیکیورٹی آلات فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں سات ڈسٹرکٹ جیلوں کو بھی جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو باعزت اور کارآمد شہری بنانے کے لیے جیلوں میں صنعتیں اور کارخانے قائم کیے گئے ہیں۔ جیل مصنوعات کے منافع کا 30 فیصد حصہ قیدیوں کو دیا جاتا ہے تاکہ انہیں روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ ٹیوٹا کے تعاون سے اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کے تحت اب تک 455 سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں جیلوں میں ای وزٹ نظام متعارف کرایا گیا۔ اس سہولت کے ذریعے اب تک 13 ہزار 438 افراد اپنے اہلِ خانہ سے آن لائن ملاقات کر چکے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے تعاون سے جیلوں میں ورچوئل کورٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں ہر ماہ تقریباً ساڑھے سات ہزار قیدیوں کی ورچوئل پیشیاں کرائی جاتی ہیں۔ جیلوں میں بین الاقوامی معیار کے ماڈل انٹرویو رومز قائم کیے گئے ہیں، جن سے روزانہ تقریباً 800 ملاقاتی مستفید ہوتے ہیں۔ اسی طرح ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کے ذریعے اب تک ایک ہزار 614 قیدیوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں جدید لیبارٹریاں، ایکسرے مشینیں اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر قیدیوں کو بہتر علاج کے لیے جیل سے باہر ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت جیل اصلاحات، انسانی وقار کے تحفظ اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے جیل اصلاحات کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔ #CMKP #SohailAfridi #PrisonReformsConference
سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا خطاب! وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے کیا جائے، جہاں عمران خان ناحق قید ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو تمام آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت جیل میں شدید متاثر ہوئی ہے اور ان کی آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ مناسب اور بروقت طبی علاج ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ذاتی معالجین سے علاج کرانے کی فوری اجازت دی جائے اور انہیں اپنے بیٹوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ انتظار کے دوران ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واٹر کینن کے استعمال کو بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کو جلسے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، مگر یہاں جلسہ ہوتے ہی ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے، حتیٰ کہ کم سن بچوں کے خلاف بھی دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت جیلوں کو روایتی قید خانوں سے حقیقی اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنے کے مشن پر عمل پیرا ہے۔ صوبے میں جیلوں کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پانچ سینٹرل جیلوں کو جدید سیکیورٹی آلات فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں سات ڈسٹرکٹ جیلوں کو بھی جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو باعزت اور کارآمد شہری بنانے کے لیے جیلوں میں صنعتیں اور کارخانے قائم کیے گئے ہیں۔ جیل مصنوعات کے منافع کا 30 فیصد حصہ قیدیوں کو دیا جاتا ہے تاکہ انہیں روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ ٹیوٹا کے تعاون سے اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کے تحت اب تک 455 سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں جیلوں میں ای وزٹ نظام متعارف کرایا گیا۔ اس سہولت کے ذریعے اب تک 13 ہزار 438 افراد اپنے اہلِ خانہ سے آن لائن ملاقات کر چکے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے تعاون سے جیلوں میں ورچوئل کورٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں ہر ماہ تقریباً ساڑھے سات ہزار قیدیوں کی ورچوئل پیشیاں کرائی جاتی ہیں۔ جیلوں میں بین الاقوامی معیار کے ماڈل انٹرویو رومز قائم کیے گئے ہیں، جن سے روزانہ تقریباً 800 ملاقاتی مستفید ہوتے ہیں۔ اسی طرح ڈرگ ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کے ذریعے اب تک ایک ہزار 614 قیدیوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں جدید لیبارٹریاں، ایکسرے مشینیں اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر قیدیوں کو بہتر علاج کے لیے جیل سے باہر ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت جیل اصلاحات، انسانی وقار کے تحفظ اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے جیل اصلاحات کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔ #CMKP #SohailAfridi #PrisonReformsConference

About