@rangthepnho62: Ảnh Trương Gia Huệ cho ai cần | lấy ảnh thì cre dùm ạ#xhggggggggggggggggggggg #viral #truonggiahue #xinhgai #nhatong

小瑶瑶
小瑶瑶
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 30 June 2026 03:20:21 GMT
322
21
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @rangthepnho62, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بے روزگار گریجویٹ نوجوان کا سب سے بڑا دکھ صرف روزگار نہ ملنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوال ہوتے ہیں جو ہر دوسرے دن اس کے دل پر نئے زخم لگا دیتے ہیں۔
بے روزگار گریجویٹ نوجوان کا سب سے بڑا دکھ صرف روزگار نہ ملنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوال ہوتے ہیں جو ہر دوسرے دن اس کے دل پر نئے زخم لگا دیتے ہیں۔ "نوکری کا کیا بنا؟"، "ابھی تک کچھ نہیں ہوا؟"، "اتنی پڑھائی کا کیا فائدہ ہوا؟"، "فلاں کا بیٹا تو لگ گیا، تم کب لگو گے؟" یہ جملے سننے میں شاید عام لگتے ہوں، مگر ایک بے روزگار نوجوان کے لیے یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ اس کی خاموش جدوجہد پر لگنے والے وہ زخم ہوتے ہیں جن سے خون تو نظر نہیں آتا، مگر درد ہر روز بڑھتا رہتا ہے۔ لوگ صرف اس کی خالی جیب دیکھتے ہیں، مگر وہ راتیں نہیں دیکھتے جب وہ موبائل کی اسکرین پر نئی نوکریوں کی تلاش کرتے کرتے سو جاتا ہے۔ وہ فارم بھرنے کے لیے ادھار لیے گئے پیسے نہیں دیکھتے، وہ امتحان کے مراکز تک پہنچنے کے لیے کیے گئے لمبے سفر نہیں دیکھتے، وہ سینکڑوں امیدواروں کے درمیان اپنی باری کا انتظار نہیں دیکھتے، وہ ہر ناکامی کے بعد خود کو دوبارہ سنبھالنے کی ہمت نہیں دیکھتے۔ ہمارے معاشرے میں ایک نوجوان جیسے ہی گریجویشن مکمل کرتا ہے، لوگ اسے انسان کم اور نوکری کی مشین زیادہ سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی کو اس کے خوابوں سے غرض نہیں ہوتی، کسی کو اس کی ذہنی کیفیت سے مطلب نہیں ہوتا، کسی کو اس کی خاموش پریشانی نظر نہیں آتی۔ ہر ملاقات کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے، "نوکری کا کیا بنا؟" یہ سوال صرف ایک سوال نہیں ہوتا، بلکہ اسے ہر بار یہ احساس دلاتا ہے کہ شاید وہ ناکام ہے، شاید اس کی محنت کی کوئی قیمت نہیں، شاید اس کی ڈگری صرف دیوار پر لگی ایک فریم بن کر رہ گئی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بے شمار نوجوان اپنی پوری دیانت داری اور قابلیت کے باوجود صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ مواقع کم ہیں، آسامیاں محدود ہیں، مقابلہ بہت سخت ہے، اور بعض اوقات میرٹ سے زیادہ سفارش یا وسائل اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب یہی نوجوان اپنے والدین کی آنکھوں میں امید دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے باپ نے اپنی ضرورتیں قربان کر کے اسے پڑھایا، ماں نے دعاؤں میں اس کی کامیابی مانگی، بہن بھائیوں نے اس سے امیدیں وابستہ کیں۔ وہ خود بھی ہر امتحان میں پوری محنت کرتا ہے، ہر انٹرویو میں بہتر جواب دینے کی کوشش کرتا ہے، مگر جب نتیجہ اس کے حق میں نہیں آتا تو وہ دوسروں سے زیادہ خود کو جواب دیتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اگلے دن پھر اٹھتا ہے، نئی درخواست بھیجتا ہے، نئی امید باندھتا ہے، نئی تیاری کرتا ہے۔ یہی اس کی اصل بہادری ہے۔ وہ ہار مان کر نہیں بیٹھتا، بلکہ ہر بار ٹوٹ کر بھی خود کو جوڑتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کے اردگرد کوئی بے روزگار نوجوان ہے تو اس سے "نوکری کا کیا بنا؟" پوچھنے کے بجائے صرف اتنا کہہ دیں، "ہمت مت ہارنا، اللہ بہتر راستہ ضرور کھولے گا۔" کبھی کبھی ایک نرم جملہ بھی اس انسان کو دوبارہ جینے کی ہمت دے دیتا ہے جس کے اندر خاموشی سے ایک پوری جنگ جاری ہوتی ہے۔#foryoure #viralvideos #foryoupage #foryoure

About