@noor_zaman_2020: اتمانزئی بائی پاس پر روزانہ سخت ترین گرمی میں ننھے بچے سڑک کنارے مکئ بیچتے نظر آتے ہیں۔ کہاں ہیں وہ ادارے جو بچوں کے حقوق کے دعوے کرتے ہیں؟ کہاں ہے چائلڈ پروٹیکشن کا نظام؟ کہاں ہیں ہیومن رائٹس کے علمبردار؟ اور کہاں ہیں وہ ذمہ دار جو ہر سال بچوں کے بہتر مستقبل کے وعدے کرتے ہیں؟ اگر یہ سب واقعی موجود ہیں تو پھر یہ بچے آج بھی سڑکوں پر کیوں ہیں؟ اور والدین و خاندان کو بھی سوچنا ہوگا کہ بچوں کا بچپن ان سے زیادہ قیمتی امانت ہے۔ اگر مجبوری ہے تو ریاست، معاشرہ اور اہلِ خیر کو مل کر ایسے خاندانوں کا سہارا بننا چاہیے، نہ کہ ان معصوم بچوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ آئیے صرف افسوس نہ کریں، بلکہ ایسے بچوں کے لیے آواز بھی اٹھائیں۔ کیونکہ ہر بچہ محفوظ بچپن، تعلیم اور عزت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے۔ #افسوس👈😢😭