@berrystory0: Part 1 |“He Did It All For Love 💔🚬 (Prison Story)”#usatiktok🇺🇸 #trending #viral #storytelling #fruitstory

Berry Story
Berry Story
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 30 June 2026 19:23:16 GMT
3511
101
3
3

Music

Download

Comments

braisaaka
braisaaka :
🥰🥰🥰
2026-06-30 19:31:46
0
vz.creations
vz creations :
🙏🙏🙏
2026-06-30 19:28:35
0
thasco76
Thasco :
❤️❤️❤️
2026-06-30 19:33:29
0
To see more videos from user @berrystory0, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اپنی عمر کی لڑکیوں کو دیکھتی ہوں تو دل بہت اداس ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی میں دیر تک انہیں دیکھتی رہتی ہوں، ان کی ہنسی، ان کی خوشیاں، ان کے خواب، ان کی بے فکری اور زندگی کو جینے کا انداز۔ پھر بے اختیار اپنا آپ یاد آ جاتا ہے۔ اس عمر میں تو لڑکیاں خود کو سنوارتی ہیں، اپنی پسند کے کپڑے پہنتی ہیں، دوستوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی ہیں، مستقبل کے خوبصورت خواب دیکھتی ہیں اور زندگی کے ہر لمحے کو اپنے نام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن نہ جانے میری زندگی کب اور کیسے بدل گئی۔ میں بھی کبھی ایسی ہی تھی، میں بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی تھی، دل کھول کر ہنستی تھی، ہر نئے دن کا انتظار کرتی تھی، میرے بھی خواب تھے، خواہشیں تھیں اور زندگی سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ مگر پھر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ سب کچھ بدلتا چلا گیا۔ اب ایسا لگتا ہے جیسے میرے اندر بسنے والی وہ خوش مزاج لڑکی کہیں کھو گئی ہے۔ میری ہنسی جو کبھی بے ساختہ ہوا کرتی تھی اب صرف رسم بن کر رہ گئی ہے۔ میری آنکھوں کی چمک مدھم پڑ گئی ہے اور دل جیسے مسلسل کسی بوجھ تلے دبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لوگ شاید آج بھی مجھے ویسا ہی سمجھتے ہوں جیسی میں پہلے تھی، لیکن وہ نہیں جانتے کہ انسان بعض اوقات باہر سے تو وہی رہتا ہے مگر اندر سے مکمل طور پر بدل چکا ہوتا ہے۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو چہرے پر نظر نہیں آتے، مگر روح کو تھکا دیتے ہیں۔ کچھ محرومیاں ایسی ہوتی ہیں جو آواز نہیں کرتیں مگر انسان کے اندر بہت کچھ توڑ دیتی ہیں۔ اے زندگی! تو نے مجھ سے کیا کیا نہیں چھینا۔ میری بے فکری، میری خوشیاں، میری مسکراہٹیں، میرا سکون، میرے خواب، میری امیدیں، سب کچھ تو آہستہ آہستہ مجھ سے دور ہوتا گیا۔ میں نے بہت سی راتیں جاگ کر گزاری ہیں، بہت سے آنسو خاموشی سے بہائے ہیں، بہت سی باتیں دل میں دفن کی ہیں جن کا ذکر میں کسی سے نہیں کر سکی۔ بعض اوقات دل چاہتا ہے کہ کوئی آئے، میرا حال پوچھے، میرے دل کا بوجھ بانٹ لے، مگر پھر یاد آتا ہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں مصروف ہے اور کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان کو اکیلے ہی سہنا پڑتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ میں جانتی ہوں میں پہلے ایسی نہیں تھی۔ میں زندگی سے محبت کرنے والی لڑکی تھی، مگر اب زندگی سے شکوہ کرنے لگی ہوں۔ میں ہنسنے والی لڑکی تھی، مگر اب خاموش رہنے لگی ہوں۔ میں امیدوں سے بھری ہوئی تھی، مگر اب اکثر دل مایوسی کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے وقت کو پیچھے لے جاؤں، اُس لڑکی سے ملوں جو کبھی میں ہوا کرتی تھی، اسے گلے لگا کر بتاؤں کہ آنے والے دن اتنے آسان نہیں ہوں گے۔ مگر وقت کبھی واپس نہیں آتا اور زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی۔ آج بھی میں جیتی ہوں، لوگوں سے ملتی ہوں، معمول کے کام کرتی ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے اندر ایک تھکا ہوا دل رہتا ہے جو کبھی کبھی بہت زور سے رونا چاہتا ہے۔ اپنی عمر کی لڑکیوں کو خوش دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے، مگر ساتھ ہی دل کے کسی کونے میں ایک درد سا جاگ اٹھتا ہے کہ کاش زندگی نے میرے ساتھ بھی کچھ نرمی کی ہوتی، کاش میرے حصے میں بھی کچھ بے فکری، کچھ سکون اور کچھ خوشیاں باقی رہنے دی ہوتیں۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ زندگی نے مجھ سے صرف چیزیں نہیں چھینی، اس نے مجھ سے وہ لڑکی بھی چھین لی جو کبھی بہت خوش رہا کرتی تھی۔ ✍️
اپنی عمر کی لڑکیوں کو دیکھتی ہوں تو دل بہت اداس ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی میں دیر تک انہیں دیکھتی رہتی ہوں، ان کی ہنسی، ان کی خوشیاں، ان کے خواب، ان کی بے فکری اور زندگی کو جینے کا انداز۔ پھر بے اختیار اپنا آپ یاد آ جاتا ہے۔ اس عمر میں تو لڑکیاں خود کو سنوارتی ہیں، اپنی پسند کے کپڑے پہنتی ہیں، دوستوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی ہیں، مستقبل کے خوبصورت خواب دیکھتی ہیں اور زندگی کے ہر لمحے کو اپنے نام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن نہ جانے میری زندگی کب اور کیسے بدل گئی۔ میں بھی کبھی ایسی ہی تھی، میں بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی تھی، دل کھول کر ہنستی تھی، ہر نئے دن کا انتظار کرتی تھی، میرے بھی خواب تھے، خواہشیں تھیں اور زندگی سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ مگر پھر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ سب کچھ بدلتا چلا گیا۔ اب ایسا لگتا ہے جیسے میرے اندر بسنے والی وہ خوش مزاج لڑکی کہیں کھو گئی ہے۔ میری ہنسی جو کبھی بے ساختہ ہوا کرتی تھی اب صرف رسم بن کر رہ گئی ہے۔ میری آنکھوں کی چمک مدھم پڑ گئی ہے اور دل جیسے مسلسل کسی بوجھ تلے دبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لوگ شاید آج بھی مجھے ویسا ہی سمجھتے ہوں جیسی میں پہلے تھی، لیکن وہ نہیں جانتے کہ انسان بعض اوقات باہر سے تو وہی رہتا ہے مگر اندر سے مکمل طور پر بدل چکا ہوتا ہے۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو چہرے پر نظر نہیں آتے، مگر روح کو تھکا دیتے ہیں۔ کچھ محرومیاں ایسی ہوتی ہیں جو آواز نہیں کرتیں مگر انسان کے اندر بہت کچھ توڑ دیتی ہیں۔ اے زندگی! تو نے مجھ سے کیا کیا نہیں چھینا۔ میری بے فکری، میری خوشیاں، میری مسکراہٹیں، میرا سکون، میرے خواب، میری امیدیں، سب کچھ تو آہستہ آہستہ مجھ سے دور ہوتا گیا۔ میں نے بہت سی راتیں جاگ کر گزاری ہیں، بہت سے آنسو خاموشی سے بہائے ہیں، بہت سی باتیں دل میں دفن کی ہیں جن کا ذکر میں کسی سے نہیں کر سکی۔ بعض اوقات دل چاہتا ہے کہ کوئی آئے، میرا حال پوچھے، میرے دل کا بوجھ بانٹ لے، مگر پھر یاد آتا ہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں مصروف ہے اور کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان کو اکیلے ہی سہنا پڑتا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ میں جانتی ہوں میں پہلے ایسی نہیں تھی۔ میں زندگی سے محبت کرنے والی لڑکی تھی، مگر اب زندگی سے شکوہ کرنے لگی ہوں۔ میں ہنسنے والی لڑکی تھی، مگر اب خاموش رہنے لگی ہوں۔ میں امیدوں سے بھری ہوئی تھی، مگر اب اکثر دل مایوسی کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے وقت کو پیچھے لے جاؤں، اُس لڑکی سے ملوں جو کبھی میں ہوا کرتی تھی، اسے گلے لگا کر بتاؤں کہ آنے والے دن اتنے آسان نہیں ہوں گے۔ مگر وقت کبھی واپس نہیں آتا اور زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی۔ آج بھی میں جیتی ہوں، لوگوں سے ملتی ہوں، معمول کے کام کرتی ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے اندر ایک تھکا ہوا دل رہتا ہے جو کبھی کبھی بہت زور سے رونا چاہتا ہے۔ اپنی عمر کی لڑکیوں کو خوش دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے، مگر ساتھ ہی دل کے کسی کونے میں ایک درد سا جاگ اٹھتا ہے کہ کاش زندگی نے میرے ساتھ بھی کچھ نرمی کی ہوتی، کاش میرے حصے میں بھی کچھ بے فکری، کچھ سکون اور کچھ خوشیاں باقی رہنے دی ہوتیں۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ زندگی نے مجھ سے صرف چیزیں نہیں چھینی، اس نے مجھ سے وہ لڑکی بھی چھین لی جو کبھی بہت خوش رہا کرتی تھی۔ ✍️

About