@ms_1ja: #الشاعر_ليث_العلي #شعراء_وذواقين_الشعر_الشعبي @𝐀𝐁𝐎𝐃❗🦅 #الحويجه_دار_العز @الشاعر ليث العلي

﮼مساهر 
﮼مساهر 
Open In TikTok:
Region: IQ
Tuesday 30 June 2026 20:23:50 GMT
2140
161
8
12

Music

Download

Comments

user52820837597145
عبدالله العوفي المگدمي :
الله الله 💔💔
2026-06-30 20:25:23
0
1i_4if1
𝐀𝐁𝐎𝐃❗🦅 :
ايبااا الشوگ مارد گلبي وضلوعي مرد
2026-07-01 02:35:52
0
a_o_e_z_22
عمر عوف عبدالرحمن :
♥️♥️♥️
2026-06-30 23:50:27
0
y__736
ال حمداني :
🥰🥰🥰
2026-06-30 22:06:10
0
_oru3
عبدالله ال عناد العيثاوي :
🥰🥰
2026-06-30 21:42:39
0
user7382814370069
عٌسِلَ نِآصّر :
💚💚💚
2026-06-30 20:25:24
0
user1558158328618
يوسف :
🥰🥰🥰
2026-06-30 20:25:22
0
user862716562490
عبد الرحمن :
❤️❤️
2026-07-01 01:55:59
0
To see more videos from user @ms_1ja, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

فرانس سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ سلویا یاسمینا نے برسوں تک اپنے شوہر کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، مالی معاونت کی، خاندان کو سنبھالا اور محبت و وفاداری کی مثال قائم کی۔ لیکن ان کے بقول، یہی محبت ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن گئی۔ سلویا یاسمینا کے مطابق، جب وہ 2014 میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں برسوں تک گھر سے باہر نکلنے، کسی سے ملنے، بات کرنے اور حتیٰ کہ فون استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی بیٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی۔ کئی سال خاموشی اور خوف کے سائے میں گزر گئے، مگر پھر ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر سے نکل کر پولیس تک اطلاع پہنچائی۔ اسی ایک قدم نے ایک ماں اور اس کے بچوں کے لیے آزادی کی امید پیدا کی۔ رپورٹس کے مطابق، خیبر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو باڑہ کے ایک خستہ حال گھر سے بازیاب کرایا اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا۔ سلویا یاسمینا اب اپنے بچوں کے ہمراہ فرانس واپس جا کر ایک نئی، محفوظ اور پُرامن زندگی شروع کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ❓ آپ کے خیال میں، اگر کسی خاتون یا بچوں پر تشدد کے ایسے الزامات سامنے آئیں تو قانون کو کتنی سخت کارروائی کرنی چاہیے؟ اپنی رائے ضرور دیں۔ یہ خبر معتبر خبر رساں ذرائع سے حاصل کی گئی ہے اور عوامی آگاہی کے لیے شیئر کی گئی ہے #sylviayasmina  #domesticviolence  #humanrights  #trending #viral
فرانس سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ سلویا یاسمینا نے برسوں تک اپنے شوہر کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، مالی معاونت کی، خاندان کو سنبھالا اور محبت و وفاداری کی مثال قائم کی۔ لیکن ان کے بقول، یہی محبت ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن گئی۔ سلویا یاسمینا کے مطابق، جب وہ 2014 میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں برسوں تک گھر سے باہر نکلنے، کسی سے ملنے، بات کرنے اور حتیٰ کہ فون استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بچوں کو بھی مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی بیٹی بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکی۔ کئی سال خاموشی اور خوف کے سائے میں گزر گئے، مگر پھر ان کے کم عمر بیٹے نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھر سے نکل کر پولیس تک اطلاع پہنچائی۔ اسی ایک قدم نے ایک ماں اور اس کے بچوں کے لیے آزادی کی امید پیدا کی۔ رپورٹس کے مطابق، خیبر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو باڑہ کے ایک خستہ حال گھر سے بازیاب کرایا اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا۔ سلویا یاسمینا اب اپنے بچوں کے ہمراہ فرانس واپس جا کر ایک نئی، محفوظ اور پُرامن زندگی شروع کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ❓ آپ کے خیال میں، اگر کسی خاتون یا بچوں پر تشدد کے ایسے الزامات سامنے آئیں تو قانون کو کتنی سخت کارروائی کرنی چاہیے؟ اپنی رائے ضرور دیں۔ یہ خبر معتبر خبر رساں ذرائع سے حاصل کی گئی ہے اور عوامی آگاہی کے لیے شیئر کی گئی ہے #sylviayasmina #domesticviolence #humanrights #trending #viral

About