آخر ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟
اسکول میں ایسی تعلیم دی جائے کہ بچے کو ٹیوشن یا اکیڈمی جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
اگر ایک بچہ صبح سے دوپہر تک اسکول میں پڑھنے کے باوجود شام کو بھی ٹیوشن لینے پر مجبور ہے، تو سوال بچے پر نہیں، نظامِ تعلیم پر اٹھتا ہے۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ ٹیوشن سینٹر بھر جائیں، بلکہ یہ ہے کہ اسکول ہی بچے کی تعلیمی ضرورت پوری کر دے۔
تعلیم کو کاروبار نہیں، خدمت بنائیں۔ ہر بچے کو معیاری تعلیم اس کے اسکول میں ہی ملنی چاہیے۔ تبھی ایک مضبوط اور باصلاحیت قوم تیار ہوگی۔
"آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اسکول کی تعلیم ہی کافی ہونی چاہیے؟"
2026-07-01 12:13:36
32
... :
allah pak maghfirat farmae bacho ki or maa bap ko sabre jamil ata farmae ameen
2026-07-01 12:23:35
20
Salman malik :
😭😭😭😭😭🥰🥰
2026-07-01 12:02:06
2
Ahmed ali :
الل اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن 😭
2026-07-01 21:03:27
9
Muhammad Ans :
اللّٰہ تعالیٰ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین انشاء اللہ تعالیٰ ضرور