@footballmeme77: 🚨Donald Trump says USA will build a wall in front of their goal if they play against Mexico in the World Cup. #FootballMemes #foryoupage #worldcup #dalabyasincartan

Football Memes🥏
Football Memes🥏
Open In TikTok:
Region: SO
Wednesday 01 July 2026 07:09:36 GMT
1520
20
1
0

Music

Download

Comments

danishb57
danish chettri :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-01 07:58:48
0
To see more videos from user @footballmeme77, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

“ابو جیسے آپ نے ساری زندگی مجھے پیار کیا ہے، ویسے ہی میری بیٹی کو بھی سب سے پہلے آپ ہی اپنی گود میں اٹھا کر ڈھیر سارا پیار کرنا” یہ الفاظ تھے پاکستانی اداکار محسن گیلانی کی بیٹی سیدہ فاطمہ کے، جو انہوں نے اپنی بیٹی کی پیدائش سے پہلے والد سے کہے تھے۔ اُس وقت محسن گیلانی ڈرامہ “گھگھی” کی شوٹنگ میں مصروف تھے، مگر انہوں نے خصوصی چھٹی لی اور اسلام آباد پہنچ گئے تاکہ اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکیں۔ ننھی بچی کی پیدائش ہوگئی، لیکن خوشی کے وہ لمحے چند ہی لمحوں میں خوف میں بدل گئے۔ سیدہ فاطمہ کی بلیڈنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس نے اپنے والد کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور درد سے تڑپتے ہوئے کہنے لگی: ابو… میں مر رہی ہوں، مجھے بچا لو… میری ٹانگوں سے روح نکل رہی ہے۔ اہلِ خانہ انتہائ خوف اور دکھ میں مبتلا ڈاکٹرز کو بلا رہے تھے، چند لمحوں بعد ڈاکٹرز اسے اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی کی طرف دوڑ پڑے۔ محسن گیلانی بے بسی سے اس اسٹریچر کے پیچھے چل رہے تھے۔ ہسپتال کا وہ راستہ شاید چند قدموں کا تھا، مگر ایک باپ کے لیے وہ زندگی کا سب سے طویل سفر بن چکا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ امید کے ٹوٹنے کی آواز بن رہا تھا۔ کافی دیر بعد ڈاکٹر ز انہیں اپنے دفتر میں لے گئے اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے صرف اتنا کہا: “آپ کی بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی” یہ سنتے ہی جیسے وقت تھم سا گیا۔ محسن گیلانی شدید صدمے میں تھے۔ انہیں کچھ یاد نہیں تھا، نہ اپنے اردگرد کے لوگ، نہ دنیا، نہ خود اپنی کیفیت۔ ان کی تمام سوچ صرف اپنی بیٹی کے آخری سفر تک محدود ہو چکی تھی۔ اسی دوران نرسری سے ایک خاتون آئیں اور روتے ہوئے بولیں: “آپ بیٹی کے غم میں اپنی نواسی کو بھول گئے” یہ سنتے ہی انہیں اپنی بیٹی کی آخری خواہش یاد آگئی۔ انہوں نے اپنی ننھی نواسی کو پہلی بار گود میں اٹھایا، اسے سینے سے لگایا، اور یوں اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔ پھر وہ اپنی نواسی کو ساتھ لے کر ملتان روانہ ہوئے، جبکہ پیچھے ایمبولینس میں ان کی جوان بیٹی کی میت تھی۔ اسلام آباد سے ملتان تک تقریباً دس گھنٹے کا سفر… ایک طرف گاڑی کی اسٹیئرنگ پر بیٹھا باپ، دوسری طرف پیچھے چلتی ایمبولینس، اور اس کا مسلسل بجتا ہوا سائرن۔ محسن گیلانی کہتے ہیں کہ آج بھی ایمبولینس کا سائرن سنتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ آواز میرے لیے صرف ایک سائرن نہیں، بلکہ میری زندگی کے سب سے دردناک دن کی یاد ہے، جو ہر بار میرے زخم پھر سے تازہ کر دیتی ہے
“ابو جیسے آپ نے ساری زندگی مجھے پیار کیا ہے، ویسے ہی میری بیٹی کو بھی سب سے پہلے آپ ہی اپنی گود میں اٹھا کر ڈھیر سارا پیار کرنا” یہ الفاظ تھے پاکستانی اداکار محسن گیلانی کی بیٹی سیدہ فاطمہ کے، جو انہوں نے اپنی بیٹی کی پیدائش سے پہلے والد سے کہے تھے۔ اُس وقت محسن گیلانی ڈرامہ “گھگھی” کی شوٹنگ میں مصروف تھے، مگر انہوں نے خصوصی چھٹی لی اور اسلام آباد پہنچ گئے تاکہ اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکیں۔ ننھی بچی کی پیدائش ہوگئی، لیکن خوشی کے وہ لمحے چند ہی لمحوں میں خوف میں بدل گئے۔ سیدہ فاطمہ کی بلیڈنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس نے اپنے والد کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور درد سے تڑپتے ہوئے کہنے لگی: ابو… میں مر رہی ہوں، مجھے بچا لو… میری ٹانگوں سے روح نکل رہی ہے۔ اہلِ خانہ انتہائ خوف اور دکھ میں مبتلا ڈاکٹرز کو بلا رہے تھے، چند لمحوں بعد ڈاکٹرز اسے اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی کی طرف دوڑ پڑے۔ محسن گیلانی بے بسی سے اس اسٹریچر کے پیچھے چل رہے تھے۔ ہسپتال کا وہ راستہ شاید چند قدموں کا تھا، مگر ایک باپ کے لیے وہ زندگی کا سب سے طویل سفر بن چکا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ امید کے ٹوٹنے کی آواز بن رہا تھا۔ کافی دیر بعد ڈاکٹر ز انہیں اپنے دفتر میں لے گئے اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے صرف اتنا کہا: “آپ کی بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی” یہ سنتے ہی جیسے وقت تھم سا گیا۔ محسن گیلانی شدید صدمے میں تھے۔ انہیں کچھ یاد نہیں تھا، نہ اپنے اردگرد کے لوگ، نہ دنیا، نہ خود اپنی کیفیت۔ ان کی تمام سوچ صرف اپنی بیٹی کے آخری سفر تک محدود ہو چکی تھی۔ اسی دوران نرسری سے ایک خاتون آئیں اور روتے ہوئے بولیں: “آپ بیٹی کے غم میں اپنی نواسی کو بھول گئے” یہ سنتے ہی انہیں اپنی بیٹی کی آخری خواہش یاد آگئی۔ انہوں نے اپنی ننھی نواسی کو پہلی بار گود میں اٹھایا، اسے سینے سے لگایا، اور یوں اپنی بیٹی سے کیا ہوا وعدہ نبھا دیا۔ پھر وہ اپنی نواسی کو ساتھ لے کر ملتان روانہ ہوئے، جبکہ پیچھے ایمبولینس میں ان کی جوان بیٹی کی میت تھی۔ اسلام آباد سے ملتان تک تقریباً دس گھنٹے کا سفر… ایک طرف گاڑی کی اسٹیئرنگ پر بیٹھا باپ، دوسری طرف پیچھے چلتی ایمبولینس، اور اس کا مسلسل بجتا ہوا سائرن۔ محسن گیلانی کہتے ہیں کہ آج بھی ایمبولینس کا سائرن سنتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ آواز میرے لیے صرف ایک سائرن نہیں، بلکہ میری زندگی کے سب سے دردناک دن کی یاد ہے، جو ہر بار میرے زخم پھر سے تازہ کر دیتی ہے

About