Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@anhkysuday: #anhkysuday #omo #nuocgiat #nuocgiatdochip
Anh kỹ sư đâyyyy
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 01 July 2026 07:32:08 GMT
2
0
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.62MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.62MB
)
Watermark .mp4 (
1.66MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @anhkysuday, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#homepage #viralvideos #fyp
BINA INTERVIEW TOH EUROPE 🇪🇺🌊 BETHA AA#fyp #foryou #foryoupage #viralvideo #viraltiktok
یہ کیس سی سی ڈی کا نہیں بنتا ،یہ کیس لاہور پولیس ہی حل کرے گی ۔اسحاق ڈار کا نواسہ باس نہیں ہے ،یہ کہنا ہے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا ، 'باس' آخر ہے کون؟ اس پر سے پردہ اٹھنا شروع ہوگیا۔ جب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران پریس کانفرنس میں بتا رہے تھے کہ "وحید عرف باس ایک بدنام زمانہ اور ب۔ی۔ڈ کریکٹر مل۔ز۔م ہے، جس کے خلاف 10 مقدمات درج ہیں اور وہ پہلے بھی قانونی کارروائی کا سامنا کر چکا ہے"تو اسی دوران صحافیوں میں سے ایک آواز گونجی: "یہ وحید نہیں، علی ڈار ہے... آپ اصل نام چھپا رہے ہیں!" ڈی آئی جی فیصل کامران نے صحافی کی طرف دیکھے بغیر فوری جواب دیا: "یہ غلط بیانی ہے۔" اسی دوران وہ تصویر بھی سامنے آگئی جس کا سب کو انتظار تھا۔ سرخ دائرے میں اس شخص کی نشاندہی کی گئی جسے پولیس وحید عرف باس قرار دے رہی ہے، جبکہ زرد دائرے میں علی ڈار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ مگر تصویر سامنے آنے کے باوجود کئی سوال اب بھی جواب طلب ہیں۔ فیصل کامران کی یہ پریس کانفرنس جتنے سوالوں کے جواب دینے آئی، شاید اس سے کہیں زیادہ نئے سوال چھوڑ گئی۔ یہ ہائی پروفائل کیس لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ ا۔غ۔و۔ا، تا۔و۔ا۔ن سے متعلق ہے، جس نے ملک بھر میں شدید توجہ حاصل کی۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو منتقل نہیں کیا جا رہا بلکہ لاہور پولیس خود ہی اس کی تفتیش مکمل کرے گی۔ کریڈٹ : صحافی ادیب یوسفزئی
#thematic #app #homecsreen
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy