جس کے دیکھنے سے دن پل بھر میں گزر جاتا تھا، جس کے بولنے سے دل کو عجیب سا سکون مل جاتا تھا۔
آج وہ ملا تو سہی، مگر نہ وہ بات رہی، نہ دل کو سکون ملا، نہ آنکھوں میں وہ رات رہی۔
کبھی اس کی ایک مسکراہٹ عید لگتی تھی، آج اس کی موجودگی بھی اجنبی سی لگتی ہے۔
جن لمحوں کو ہم نے زندگی سمجھ رکھا تھا، وہی لمحے آج یاد بن کر دل دکھاتے ہیں۔
عجب دستورِ محبت ہے مرشد، کچھ لوگ مل بھی جائیں تو پہلے جیسے نہیں رہتے۔