@just.for.you.0.0.7: یہ ایک بہت ہی گہرا اور حقیقت پر مبنی سوال ہے، جو ہمارے معاشرے کی ایک روایتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یقیناً، نصیب اور تقدیر صرف بیٹیوں کی نہیں بلکہ بیٹوں کی بھی ہوتی ہے۔ کامیابی، سکون، اچھی صحت اور نیک شریکِ حیات کی ضرورت بیٹوں کو بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی بیٹیوں کو۔ لیکن معاشرے میں عام طور پر بیٹیوں کے اچھے نصیب کی دعا زیادہ کیوں دی جاتی ہے؟ اس کی چند اہم وجوہات ہیں: ۱. اپنا گھر چھوڑنے کا احساس (ہجرت) بیٹی کو شادی کے بعد اپنا والدین کا گھر، ماحول اور پورا طرزِ زندگی بدل کر ایک نئے گھرانے میں جانا ہوتا ہے۔ جہاں اسے نئے لوگوں اور نئے مزاج کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔ اس بڑی تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بڑے بوڑھے ہمیشہ اس کے اچھے نصیب کی دعا کرتے ہیں تاکہ اسے نئے گھر میں پیار اور عزت ملے۔ ۲. تحفظ اور حساسیت روایتی طور پر بیٹیوں کو بیٹوں کے مقابلے میں زیادہ حساس اور نازک سمجھا جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی بیٹے کا نصیب یا وقت اچھا نہ چل رہا ہو، تو معاشرہ سمجھتا ہے کہ وہ مرد ہے، کما لے گا، لڑ لے گا یا حالات کا مقابلہ کر لے گا۔ لیکن بیٹیوں کے معاملے میں لوگ جذباتی اور فکرمند ہوتے ہیں کہ اسے کوئی دکھ نہ پہنچے۔