@malby_katz: наконец моя вредная привычка дала плоды... (в следующий раз мне сразу поставят хэд) #csgo #cs2

malby
malby
Open In TikTok:
Region: BY
Wednesday 01 July 2026 08:49:49 GMT
5355
85
4
7

Music

Download

Comments

user0o41supafi
k1ntr :
в киберспорте это считаете уже крутым моментом а тут ты его практикуешь👍
2026-07-01 09:24:49
12
dimpson26
Dimpson :
У меня такое за 5к часов никогда не залетало 😤😤😤
2026-07-01 09:57:54
1
mar_myk
из жалости :
пиривет го месте играть в кс??
2026-07-01 09:01:04
0
ratik115
RATIK :
прикольно играешь можно с вами
2026-07-03 03:04:02
0
To see more videos from user @malby_katz, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مشر منظور پشتین کی باتیں وقت کے ساتھ سچ ثابت ہو رہی ہیں! مشر منظور پشتین نے جب اسلام آباد دھرنے کے دوران پہلی بار ہمارے سامنے یہ نعرہ لگایا تھا کہ: ”یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے!“ تو ہم میں سے بہت سے لوگ حیران تھے کہ مشر آخر یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اُس وقت ہم میں سے اکثر لوگوں کو ڈالر کی اس جنگ کے اصل مقاصد اور اس کے پیچھے ہونے والی سیاست کا پورا اندازہ نہیں تھا، لیکن وقت گزرتا گیا اور آہستہ آہستہ بہت سی حقیقتیں سامنے آنے لگیں۔ آج اس ویڈیو کو دیکھیں، جو وادیٔ تیراہ، میدان کی ہے۔ وہاں کے لوگوں نے برسوں تک آپریشنز، بمباری اور ڈرون حملوں کے خوف میں زندگی گزاری۔ روزانہ کی اذیتوں سے تنگ آ کر لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے اضلاع کی طرف نقل مکانی کرنا پڑی۔ کتنے ہی خاندان بے گھر ہوئے، کتنے ہی لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا اور کتنے ہی بچوں کا مستقبل متاثر ہوا۔ لیکن آج ذرا موجودہ حالات پر نظر ڈالیں! جن لوگوں کے درمیان کل تک جنگ، خوف اور تباہی کی فضا تھی، آج ان کے درمیان دوستی، تعلقات اور بھائی چارے کے مناظر بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ تمام صورتِ حال بہت سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے کہ آخر اس طویل جنگ کا فائدہ کس کو ہوا اور اس کی قیمت کس نے ادا کی؟ مشر منظور پشتین نے اپنے ایک خطاب میں یہ نعرہ بھی لگایا تھا: ”فوجی اور طالب بھائی بھائی!“ آج مشر منظور پشتین کے ان نعروں اور ان کی باتوں کو دوبارہ سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جن خدشات کا اظہار وہ برسوں پہلے کرتے تھے، آج ان پر بحث کرنے کے لیے بہت سے واقعات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ جنگ امن کے قیام کے لیے تھی، تو پھر پشتون علاقوں کو اس قدر تباہی، بے گھری اور بدامنی کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ اور اگر آج تعلقات اور بھائی چارے کے نئے مناظر سامنے آ رہے ہیں، تو کیا عوام کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ کل کی جنگ کے اصل مقاصد کیا تھے؟ مشر منظور پشتین کی باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن پشتون عوام کے دکھوں، قربانیوں اور ان کے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو نعروں سے زیادہ امن، انصاف اور اپنے مستقبل کے بارے میں واضح جواب درکار ہیں۔ پشتون قوم اب سوال بھی کرے گی، حساب بھی مانگے گی اور اپنے علاقوں میں پائیدار امن کا مطالبہ بھی جاری رکھے گی۔ تحریر کردہ: کامران خان کوآرڈینیٹر، پی ٹی ایم اسلام آباد #foryou #foryoupage #manzoor_pashteen #PTMSymbolOfPeace
مشر منظور پشتین کی باتیں وقت کے ساتھ سچ ثابت ہو رہی ہیں! مشر منظور پشتین نے جب اسلام آباد دھرنے کے دوران پہلی بار ہمارے سامنے یہ نعرہ لگایا تھا کہ: ”یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے!“ تو ہم میں سے بہت سے لوگ حیران تھے کہ مشر آخر یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اُس وقت ہم میں سے اکثر لوگوں کو ڈالر کی اس جنگ کے اصل مقاصد اور اس کے پیچھے ہونے والی سیاست کا پورا اندازہ نہیں تھا، لیکن وقت گزرتا گیا اور آہستہ آہستہ بہت سی حقیقتیں سامنے آنے لگیں۔ آج اس ویڈیو کو دیکھیں، جو وادیٔ تیراہ، میدان کی ہے۔ وہاں کے لوگوں نے برسوں تک آپریشنز، بمباری اور ڈرون حملوں کے خوف میں زندگی گزاری۔ روزانہ کی اذیتوں سے تنگ آ کر لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے اضلاع کی طرف نقل مکانی کرنا پڑی۔ کتنے ہی خاندان بے گھر ہوئے، کتنے ہی لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا اور کتنے ہی بچوں کا مستقبل متاثر ہوا۔ لیکن آج ذرا موجودہ حالات پر نظر ڈالیں! جن لوگوں کے درمیان کل تک جنگ، خوف اور تباہی کی فضا تھی، آج ان کے درمیان دوستی، تعلقات اور بھائی چارے کے مناظر بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ تمام صورتِ حال بہت سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے کہ آخر اس طویل جنگ کا فائدہ کس کو ہوا اور اس کی قیمت کس نے ادا کی؟ مشر منظور پشتین نے اپنے ایک خطاب میں یہ نعرہ بھی لگایا تھا: ”فوجی اور طالب بھائی بھائی!“ آج مشر منظور پشتین کے ان نعروں اور ان کی باتوں کو دوبارہ سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جن خدشات کا اظہار وہ برسوں پہلے کرتے تھے، آج ان پر بحث کرنے کے لیے بہت سے واقعات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ جنگ امن کے قیام کے لیے تھی، تو پھر پشتون علاقوں کو اس قدر تباہی، بے گھری اور بدامنی کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ اور اگر آج تعلقات اور بھائی چارے کے نئے مناظر سامنے آ رہے ہیں، تو کیا عوام کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ کل کی جنگ کے اصل مقاصد کیا تھے؟ مشر منظور پشتین کی باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن پشتون عوام کے دکھوں، قربانیوں اور ان کے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو نعروں سے زیادہ امن، انصاف اور اپنے مستقبل کے بارے میں واضح جواب درکار ہیں۔ پشتون قوم اب سوال بھی کرے گی، حساب بھی مانگے گی اور اپنے علاقوں میں پائیدار امن کا مطالبہ بھی جاری رکھے گی۔ تحریر کردہ: کامران خان کوآرڈینیٹر، پی ٹی ایم اسلام آباد #foryou #foryoupage #manzoor_pashteen #PTMSymbolOfPeace

About