@kiran_wriite: caption مجھے اپنے ماضی کا کوئی افسوس نہیں، نہ اُن گزرے ہوئے دنوں کا دکھ ہے جو وقت کے ساتھ میری زندگی سے رخصت ہو گئے۔ میں جانتی ہوں کہ جو بیت جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا، اور جو لوگ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اُنہیں روکنا بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔ مگر ایک درد ایسا ہے جو آج بھی دل کے کسی کونے میں زندہ ہے، اور وہ یہ احساس ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی جذبات اُن لوگوں پر خرچ کر دیے جو اُن کی قدر کے قابل ہی نہیں تھے۔ میں نے اپنا خلوص، اپنی محبت، اپنی وفاداری، اپنی دعائیں، اپنا وقت اور اپنی بے شمار راتوں کی بے چینی اُن لوگوں کے نام کر دی جنہوں نے کبھی پلٹ کر یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ میرے دل پر کیا گزر رہی ہے۔ میں نے اُن کے لیے خود کو بدل لیا، اپنی خواہشوں کو دبا لیا، اپنے خوابوں کو پیچھے چھوڑ دیا، صرف اس امید پر کہ شاید ایک دن وہ میری محبت اور قربانیوں کی اہمیت سمجھ سکیں گے۔ مگر کچھ لوگ صرف لینے کے عادی ہوتے ہیں، وہ جذبات وصول تو کر لیتے ہیں مگر اُن کی قیمت ادا کرنا نہیں جانتے۔ آج جب میں پیچھے مُڑ کر دیکھتی ہوں تو اُن لوگوں کے جانے کا دکھ نہیں ہوتا، کیونکہ جو لوگ دل سے اپنے ہوتے ہیں وہ کبھی یوں بے مروتی سے ساتھ نہیں چھوڑتے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ میں نے اپنی ذات کے وہ خوبصورت حصے اُن پر نچھاور کر دیے جو میرے خلوص کے مستحق نہیں تھے۔ میں نے اُن کے لیے آنسو بہائے جو میری آنکھوں کی نمی کے معنی بھی نہ سمجھ سکے، میں نے اُن کے لیے دعائیں مانگیں جو میرے درد سے بے خبر رہے، اور میں نے اُنہیں اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا جن کے لیے میں محض ایک وقتی ضرورت تھی۔ کبھی کبھی انسان لوگوں کے چلے جانے سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اس احساس سے ٹوٹ جاتا ہے کہ اُس نے اپنی سچی محبت غلط جگہ پر صرف کر دی۔ یہی احساس دل کو سب سے زیادہ زخمی کرتا ہے۔ اب زندگی نے یہ سبق سکھا دیا ہے کہ ہر مسکراتا چہرہ مخلص نہیں ہوتا، ہر قریب آنے والا اپنا نہیں ہوتا، اور ہر رشتہ دل کے تمام دروازے کھول دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف اس لیے آتے ہیں تاکہ ہمیں اپنی قدر کا احساس دلا سکیں۔ آج میرے دل میں اُن لوگوں کے لیے نہ نفرت ہے نہ شکوہ، بس ایک خاموش سا افسوس ہے کہ کاش میں نے اپنے ان قیمتی جذبات کو بچا کر رکھا ہوتا، کاش میں نے اپنی محبت، اپنی وفاداری اور اپنے خلوص کی قیمت پہچانی ہوتی۔ کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد انسان کو لوگوں کی نہیں، بلکہ اپنے اُن جذبات کی کمی محسوس ہوتی ہے جو اُس نے بے قدر لوگوں پر لٹا دیے ہوتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ دکھ ہے جو ماضی کے ہر زخم سے زیادہ گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ ✍️