@quangduy_1088: Sẽ mãi nhớ người thầy đáng kính#umcmedicalcenter

bờ i bi
bờ i bi
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 01 July 2026 11:02:33 GMT
25171
680
17
21

Music

Download

Comments

mapmayman2905
Nhaan :
Thầy của những người Thầy, cảm ơn Thầy đã sống một cuộc đời không còn gì phải hối tiếc ! Mong Thầy thanh thản
2026-07-02 07:55:03
4
htttra99
Thanh Trà :
Cứ xem lại là nước mắt lại rơi anh ơi 😞
2026-07-03 06:25:57
2
user499970040
Tik Toker :
tôi đã khóc
2026-07-02 11:49:21
1
linh241287
Thạch Mỷ Linh :
kính tiển bác lần cuối ạ
2026-07-03 12:28:17
1
roosterlv
V i Ệ t :
Tự Hào về người con Tĩnh Gia - Thanh Hoáaaaaa
2026-07-03 07:42:56
2
buihoa1215
buihoa@12 :
Nam mô a Di Đà Phật 🙏🙏🙏
2026-07-02 00:15:38
1
luongthuytien1706
999 Lương Thủy Tiên :
người thầy đáng kính, một đời cống hiến!🙏🙏🙏
2026-07-04 05:40:41
0
baobinh15778
baobinh15778 :
❤️❤️❤️
2026-07-01 11:48:04
1
ngocthuhuynh357
Ngocthuhuynh :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-07-01 14:16:27
1
tranhien2161
Thỏ yêu :
🙏🏻🙏🏻🙏🏻
2026-07-02 01:40:13
1
trangtrn6978
ttt :
🥺🥺🥺
2026-07-04 07:05:10
0
To see more videos from user @quangduy_1088, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

POST
POST"1/SHYRIE✨️💫 ​📜 متنِ شعر:✨️❤️‍🩹🥺 ​پیار کیا تو بدنام ہو گئے، چرچے ہمارے سرعام ہو گئے🌷🌷 ظالم نے دل بھی اسی وقت توڑا، جب ہم اس کے پیار کے غلام ہو گئے🥀🥀 ​🔍 شعر کی گہرائی اور پس منظر (تفصیل) ​یہ شعر محبت کی اس تلخ ترین حقیقت اور نفسیات کو بیان کرتا ہے جس سے اکثر سچے محبت کرنے والے گزرتے ہیں۔ شاعری میں اس کیفیت کو "احساسِ زیاں" (سب کچھ کھو دینے کا غم) کہا جاتا ہے۔ ​عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب تک انسان کسی کی پہنچ سے دور رہتا ہے، اس کی اہمیت اور قدر برقرار رہتی ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ اپنی انا، اپنی خودداری اور اپنا سب کچھ سامنے والے کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا ہے، اگلا انسان اسے مغلوب سمجھ کر اس کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ شعر اسی انسانی رویے اور بے رخی پر ایک گہرا نوحہ ہے۔ ​✍️ مصرع بہ مصرع تشریح🌹 ​پہلا مصرع: ​"پیار کیا تو بدنام ہو گئے، چرچے ہمارے سرعام ہو گئے" ​تشریح: شاعر کہتا ہے کہ اس معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ یہاں محبت کو پاکیزگی کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ایک جرم یا تماشہ بنا دیا جاتا ہے۔ میں نے تو صرف ایک سچی محبت کی تھی، لیکن زمانے نے اسے ایک گناہ کی طرح اچھالا۔ ہر گلی، کوچے اور محفل میں میری محبت کا تماشہ بنایا گیا، اور رسوائی و بدنامی میرا مقدر بن گئی۔ یعنی محبت کا پہلا تحفہ جو مجھے ملا، وہ زمانے کی طرف سے دی گئی بدنامی تھی۔ ​دوسرا مصرع:🌹 ​"ظالم نے دل بھی اسی وقت توڑا، جب ہم اس کے پیار کے غلام ہو گئے" ​تشریح: یہ اس شعر کا سب سے دردناک اور مرکزی نقطہ ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو "ظالم" کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور اس کی بے حسی کا شکوہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ستم ظریفی تو دیکھیے! اس نے میرا دل توڑنے کے لیے اس وقت کا انتخاب کیا جب میں مکمل طور پر اس کی محبت کی گرفت میں آ چکا تھا۔✨️

About