@xomollysloan: Save your sanity and get everything in one kit. 🍼✨🤍 #newbornessentials

Molly Sloan 🎀
Molly Sloan 🎀
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 01 July 2026 14:38:32 GMT
3502
24
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @xomollysloan, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

منہ پر مار دی جاتی ہیں وہ محبتیں جس میں محبت کرنے والا حد سے زیادہ مخلص ہو، یہ دنیا کی سب سے تلخ سچائی ہے کہ یہاں جتنا زیادہ خلوص دو گے، اتنی ہی زیادہ اذیت سہو گے، جو شخص اپنی پوری ذات کو کسی ایک شخص کے قدموں میں رکھ دے، جو اپنی نیند، اپنا سکون، اپنی عزتِ نفس، اپنی ہر خواہش کو دوسرے کی خوشی پر قربان کر دے، اسی کو آخر میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ تم تو بہت زیادہ ہو گئے تھے، تمہاری محبت بوجھ بن گئی تھی، لوگوں کو سچی محبت راس ہی نہیں آتی، انہیں وہ محبت چاہیے جو صرف ضرورت کے وقت یاد آئے، جو صرف مطلب کے وقت کام آئے، مگر جو شخص حد سے زیادہ مخلص ہو وہ تو محبت کو عبادت سمجھ کر کرتا ہے، وہ گنتی نہیں کرتا کہ کتنا دیا اور کتنا ملا، وہ تو بس دیتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچتا، سوائے اپنی ٹوٹی ہوئی ذات کے۔ اور پھر ایک دن وہی محبت اس کے منہ پر مار دی جاتی ہے، جس طرح کسی بے قیمت چیز کو پھینک دیا جاتا ہے، اس لمحے اس مخلص انسان کے اندر کچھ ٹوٹ جاتا ہے جو پھر کبھی جڑتا نہیں، وہ باہر سے تو زندہ لگتا ہے، ہنستا بھی ہے، بولتا بھی ہے، مگر اندر سے وہ مر چکا ہوتا ہے، کیونکہ اس نے تو کسی کو اپنا سب کچھ سمجھا تھا، اور جب اسی سب کچھ نے اسے ٹھکرا دیا تو اس کے پاس بچا ہی کیا، لوگ کہتے ہیں کہ زیادہ مخلص نہیں ہونا چاہیے، مگر مخلص انسان کو یہ ہنر آتا ہی نہیں کہ وہ محبت میں منافقت کرے، وہ تو یا تو محبت کرتا ہی نہیں، اور اگر کر لے تو پھر اپنی آخری سانس تک اسی محبت کا قیدی بن جاتا ہے، یہی اس کا جرم ہے، اور یہی اس کی سزا ہے، کہ اس کی سچی محبت کو ہی اس کی کمزوری سمجھ لیا گیا۔
منہ پر مار دی جاتی ہیں وہ محبتیں جس میں محبت کرنے والا حد سے زیادہ مخلص ہو، یہ دنیا کی سب سے تلخ سچائی ہے کہ یہاں جتنا زیادہ خلوص دو گے، اتنی ہی زیادہ اذیت سہو گے، جو شخص اپنی پوری ذات کو کسی ایک شخص کے قدموں میں رکھ دے، جو اپنی نیند، اپنا سکون، اپنی عزتِ نفس، اپنی ہر خواہش کو دوسرے کی خوشی پر قربان کر دے، اسی کو آخر میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ تم تو بہت زیادہ ہو گئے تھے، تمہاری محبت بوجھ بن گئی تھی، لوگوں کو سچی محبت راس ہی نہیں آتی، انہیں وہ محبت چاہیے جو صرف ضرورت کے وقت یاد آئے، جو صرف مطلب کے وقت کام آئے، مگر جو شخص حد سے زیادہ مخلص ہو وہ تو محبت کو عبادت سمجھ کر کرتا ہے، وہ گنتی نہیں کرتا کہ کتنا دیا اور کتنا ملا، وہ تو بس دیتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچتا، سوائے اپنی ٹوٹی ہوئی ذات کے۔ اور پھر ایک دن وہی محبت اس کے منہ پر مار دی جاتی ہے، جس طرح کسی بے قیمت چیز کو پھینک دیا جاتا ہے، اس لمحے اس مخلص انسان کے اندر کچھ ٹوٹ جاتا ہے جو پھر کبھی جڑتا نہیں، وہ باہر سے تو زندہ لگتا ہے، ہنستا بھی ہے، بولتا بھی ہے، مگر اندر سے وہ مر چکا ہوتا ہے، کیونکہ اس نے تو کسی کو اپنا سب کچھ سمجھا تھا، اور جب اسی سب کچھ نے اسے ٹھکرا دیا تو اس کے پاس بچا ہی کیا، لوگ کہتے ہیں کہ زیادہ مخلص نہیں ہونا چاہیے، مگر مخلص انسان کو یہ ہنر آتا ہی نہیں کہ وہ محبت میں منافقت کرے، وہ تو یا تو محبت کرتا ہی نہیں، اور اگر کر لے تو پھر اپنی آخری سانس تک اسی محبت کا قیدی بن جاتا ہے، یہی اس کا جرم ہے، اور یہی اس کی سزا ہے، کہ اس کی سچی محبت کو ہی اس کی کمزوری سمجھ لیا گیا۔

About