@kibble85: ربي يبارك🔥❤️#تصوري📸 #اذكروا_الله #سوناتا #ازيرا #طرابلس_بنغازي_المرج_البيضاء_درنه_طبرق #ترند #مشاهدات #تفاعل @امير🥇📸 #شعب_الصيني_ماله_حل😂😂

محمد،احسي،زنتاني⚜️
محمد،احسي،زنتاني⚜️
Open In TikTok:
Region: LY
Wednesday 01 July 2026 14:56:47 GMT
7597
757
33
32

Music

Download

Comments

tamer..2006
” Tamer ” :
ازيرا وآخرون الله يبارك 😂🔥
2026-07-01 20:47:45
4
z_n_t_a_n_e
ادريس،ابوكراع،الزنتاني𓍢 ͢🔱 :
ربي يبارك🔥
2026-07-01 15:04:41
2
hh.009hh3
hh.009hh3 :
اول مره نحق زينقو ع لون رصاصي و ابيضّ🙂✨
2026-07-01 22:19:42
0
zntana4
محمد القمودي الزنتاني :
ربي يبارك ❤️
2026-07-01 18:07:50
1
habit.avid.a.showe
⚜️Abd AiSamiea⚜️ :
ربي يبارك✈️🖤
2026-07-01 15:00:02
1
md_zn_01
زنـتـانـي⚜️ :
نبي الفلتر يزعم
2026-07-01 21:34:43
1
amerasnane3
𝓐𝓶𝓲𝓻🔥 :
غالي🔥
2026-07-01 18:10:53
1
user24856613386014
مالك الكوبه :
ربي ايبارك✌️✌️
2026-07-01 15:33:06
1
e9k77
امير🥇📸 :
فنان مصورنا✌🏻😍
2026-07-01 18:16:57
2
a_bdo_26
🦅عبد المالك افنيك 🦅 :
تريس ✌🔥
2026-07-01 15:04:21
1
m.ali7k_mleha
مـالكـ امليحه "01" 🔱🔥 :
يباركلكم ✌🔥
2026-07-01 17:41:06
1
user7024339597350
⚜️🔥﮼ابوزويته﮼⚜️🔥 :
حاجه دبز 🥰❤️
2026-07-01 15:17:34
2
h_r_3_h
👑♛𝐇♛𓆩𝟕𝟎𝟓𝟎𓆪🫅 :
ربي يبارك😻
2026-07-01 20:49:37
0
zoher_007
زهير أبودلال 🔥🖤 :
2026-07-01 22:16:19
0
.zentan.1
ْM16 :
فناانن🔥
2026-07-01 20:23:18
0
hh.009hh3
hh.009hh3 :
ربي ايبارك زميلي 🔥
2026-07-01 22:19:42
0
To see more videos from user @kibble85, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ظالم کبھی اکیلا نہیں ہوتا، کیونکہ معاشرے کے مصلحت پسند اور مفاد پرست اپنے چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لیے اس کی لاٹھی بن جاتے ہیں۔ فرعون کی اصل طاقت اس کا لشکر نہیں تھا، بلکہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے مفاد کی خاطر اصولوں کا سودا کر لیا اور خاموش رہ کر ظلم کی حمایت کی۔  لوگ اکثر ظالم کی طاقت سے مرعوب ہو کر یا اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پرانے دور کا فرعونزم اسی مصلحت پسندی کے بل بوتے پر قائم تھا۔ لوگ جانتے تھے کہ حق کیا ہے، لیکن فرعون کے دربار سے ملنے والے مفادات، مراعات اور خوف نے ان کی زبانوں پر تالے لگا دیے تھے۔ جب مفاد اصولوں پر بھاری ہو جائے، تو ضمیر خود بخود مر جاتا ہے۔ فرعون کو فرعون بنانے میں جتنا ہاتھ اس کی اپنی سرکشی کا تھا، اس سے کہیں زیادہ ہاتھ اس قوم کی خاموشی اور مصلحت پسندی کا تھا جو ظلم سہتی رہی اور لاشعوری طور پر اس کی طاقت بنتی رہی۔ کیونکہ ظلم کو برداشت کرنا بھی ظالم کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔ آج کے دور میں ماڈرن فرعونزم نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں، مگر انسانی رویے وہی ہیں۔ آج کا ظالم کوئی تاج پہن کر سامنے نہیں آتا، بلکہ وہ ہمارے اردگرد مختلف نظاموں اور طاقتور حلقوں کی شکل میں موجود ہے۔ ہم روز اپنے مفاد کی خاطر، اپنے کسی چھوٹے سے فائدے یا نوکری کو بچانے کے لیے، اپنے سامنے ہوتے ہوئے ظلم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب تک آگ ہمارے گھر تک نہیں آئی، ہم کیوں بولیں؟ یہی وہ سوچ ہے جو جدید فرعونیت کو جلا بخشتی ہے۔ ہم زبان سے تو مظلوم کے حق میں ہمدردی جتاتے ہیں، لیکن ہمارا عمل اور ہماری خاموشی ہمیشہ ظالم کے ترازو کو بھاری کرتی ہے۔ یہ تضاد اور بے مقصدیت ہماری سماجی اور نفسیاتی زندگی کو اپاہج بنا رہی ہے۔ ہم ایک ایسی سستی اور منافقانہ زندگی کے عادی ہو چکے ہیں جہاں اصول صرف کتابوں کی حد تک اچھے لگتے ہیں، اور عملی زندگی میں ہمارا رخ صرف اسی طرف ہوتا ہے جہاں سے ہمیں کوئی ذاتی فائدہ پہنچ رہا ہو۔ جب تک ہم اس تلخ سچائی کو تسلیم نہیں کریں گے کہ ہماری خاموشی بھی ظالم کا ایک ہتھیار ہے، تب تک ہم اس جدید دور کے پوشیدہ نظام کا حصہ بنے رہیں گے اور معاشرے سے فرعونیت کا خاتمہ کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ آج خود سے یہ سوال کیجیے: جب آپ کے سامنے کسی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہوتی ہے اور آپ اپنے کسی چھوٹے سے مفاد یا خوف کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں، تو کیا آپ لاشعوری طور پر اسی فرعونیت کا حصہ نہیں بن رہے ہوتے؟ اگر اس گہرے سماجی تجزیے نے آپ کو جھنجھوڑا ہے اور آپ کے دل پر اثر کیا ہے، تو اسے اپنے حلقے میں شیئر ضرور کریں تاکہ مصلحت پسندی کے اس جمود کو توڑا جا سکے۔ تحریر: وقاص صدیق | حرف ہنر اور احساس Follow & Promote  #وقاص_صدیق  #حرف_ہنر_اور_احساس  #SocialAnalysis  #narrative  #urduquotes
ظالم کبھی اکیلا نہیں ہوتا، کیونکہ معاشرے کے مصلحت پسند اور مفاد پرست اپنے چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لیے اس کی لاٹھی بن جاتے ہیں۔ فرعون کی اصل طاقت اس کا لشکر نہیں تھا، بلکہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے مفاد کی خاطر اصولوں کا سودا کر لیا اور خاموش رہ کر ظلم کی حمایت کی۔ لوگ اکثر ظالم کی طاقت سے مرعوب ہو کر یا اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پرانے دور کا فرعونزم اسی مصلحت پسندی کے بل بوتے پر قائم تھا۔ لوگ جانتے تھے کہ حق کیا ہے، لیکن فرعون کے دربار سے ملنے والے مفادات، مراعات اور خوف نے ان کی زبانوں پر تالے لگا دیے تھے۔ جب مفاد اصولوں پر بھاری ہو جائے، تو ضمیر خود بخود مر جاتا ہے۔ فرعون کو فرعون بنانے میں جتنا ہاتھ اس کی اپنی سرکشی کا تھا، اس سے کہیں زیادہ ہاتھ اس قوم کی خاموشی اور مصلحت پسندی کا تھا جو ظلم سہتی رہی اور لاشعوری طور پر اس کی طاقت بنتی رہی۔ کیونکہ ظلم کو برداشت کرنا بھی ظالم کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔ آج کے دور میں ماڈرن فرعونزم نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں، مگر انسانی رویے وہی ہیں۔ آج کا ظالم کوئی تاج پہن کر سامنے نہیں آتا، بلکہ وہ ہمارے اردگرد مختلف نظاموں اور طاقتور حلقوں کی شکل میں موجود ہے۔ ہم روز اپنے مفاد کی خاطر، اپنے کسی چھوٹے سے فائدے یا نوکری کو بچانے کے لیے، اپنے سامنے ہوتے ہوئے ظلم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب تک آگ ہمارے گھر تک نہیں آئی، ہم کیوں بولیں؟ یہی وہ سوچ ہے جو جدید فرعونیت کو جلا بخشتی ہے۔ ہم زبان سے تو مظلوم کے حق میں ہمدردی جتاتے ہیں، لیکن ہمارا عمل اور ہماری خاموشی ہمیشہ ظالم کے ترازو کو بھاری کرتی ہے۔ یہ تضاد اور بے مقصدیت ہماری سماجی اور نفسیاتی زندگی کو اپاہج بنا رہی ہے۔ ہم ایک ایسی سستی اور منافقانہ زندگی کے عادی ہو چکے ہیں جہاں اصول صرف کتابوں کی حد تک اچھے لگتے ہیں، اور عملی زندگی میں ہمارا رخ صرف اسی طرف ہوتا ہے جہاں سے ہمیں کوئی ذاتی فائدہ پہنچ رہا ہو۔ جب تک ہم اس تلخ سچائی کو تسلیم نہیں کریں گے کہ ہماری خاموشی بھی ظالم کا ایک ہتھیار ہے، تب تک ہم اس جدید دور کے پوشیدہ نظام کا حصہ بنے رہیں گے اور معاشرے سے فرعونیت کا خاتمہ کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ آج خود سے یہ سوال کیجیے: جب آپ کے سامنے کسی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہوتی ہے اور آپ اپنے کسی چھوٹے سے مفاد یا خوف کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں، تو کیا آپ لاشعوری طور پر اسی فرعونیت کا حصہ نہیں بن رہے ہوتے؟ اگر اس گہرے سماجی تجزیے نے آپ کو جھنجھوڑا ہے اور آپ کے دل پر اثر کیا ہے، تو اسے اپنے حلقے میں شیئر ضرور کریں تاکہ مصلحت پسندی کے اس جمود کو توڑا جا سکے۔ تحریر: وقاص صدیق | حرف ہنر اور احساس Follow & Promote #وقاص_صدیق #حرف_ہنر_اور_احساس #SocialAnalysis #narrative #urduquotes

About